مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 280
(۲۸۰) مشاہدات کو بنیاد بنا کر ستاروں کا محل وقوع پیش کیا۔اگلے سو سالوں میں میڈیسن کے علم میں بھی یہاں پیش رفت ہوئی۔اس روایت کو ابن ظہر Avenzoar کے خاندان نے برقرار رکھا۔ابن ظہر اشبیلیہ شہر کا رہنے والا تھا جہاں اس کی پیدائش ۱۰۹۰ء میں اور وفات ۱۱۶۲ ء میں ہوئی۔اس کی تین کتابوں کتاب الاستقلال، کتاب السیسیر ، کتاب الاغذیہ کے لاطینی تراجم نے یوروپ کی میڈیسن پر اپنا اثر سترھویں صدی تک برقرار رکھا۔اس ضمن میں سب سے عظیم نام ابن رشد Avorrors کا ہے جس کی پیدائش قرطبہ میں ۱۱۲۶ء میں ہوئی۔اس کی تصنیف کتاب الکلیات فی الطب میڈیسن کا انسائیکلو پیڈیا تھی۔یہاں ابن رشد کے ایک قریبی ہم عصر اور سب سے عظیم یہودی طبیب موسیٰ ابن میمون Maimonedes کا ذکر بھی ضروری ہے جس کی پیدائش قرطبہ میں ۱۱۳۵ء میں ہوئی اور وفات قاہرہ میں ۱۲۰۴ء میں ہوئی۔جہاں وہ سلطان صلاح الدین ایوبی کا شاہی طبیب تھا۔اس کے تئیں سال بعد سپین نے اسلام کا سب سے عظیم بوٹا نسٹ اور فارماسسٹ پیدا کیا جس کا نام ابن بیطار تھا اس کی وفات ۱۲۴۸ء میں ہوئی۔۱۲۳۶ء میں قرطبہ کے زوال کے باوجود میڈیسن میں فوقیت کی روایت سپین کے مسلمانوں میں برقرار رہی، اس ضمن میں مثلاً لسان الدین ابن الخطیب کا نام لیا جا سکتا ہے جس کا زمانہ حیات ۱۳۱۳ تا ۱۳۷۴ء ہے۔اس نے اپنی کتاب میں پلیگ کا ذکر کیا اور یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اس کے پھیلنے کی وجہ جراثیم سے ہو نیوالا ان فیکشن تھا۔دوسرے علوم میں فوقیت میں یہاں میڈیسن کے علاوہ ریاضی اور علم بایت میں عظیم علمی کارناموں کا ذکر کر سکتا ہوں۔تا ہم اتنا کہنا ہی کافی ہے کہ ان علوم میں بھی سپین نے چند ایک نامور عالم و فاضل پیدا کئے۔لیکن اس کے علاوہ اسلامی سپین کا ایک اور رول بھی تھا جو کہ بلکل منفرد تھا۔اور جس کے بارہ میں اب یہاں کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں۔یہ اہم رول سائینسی علوم کے تمام ذخیرہ کا یوروپ کو ٹرانسمٹ کرنا تھا چا ہے یہ ذخیرہ یونانی،