مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 279 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 279

(۲۷۹) اس علمی تخلیق کے اعلیٰ درجہ ہونے کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے جارج سارٹن Saton کی پانچ جلدوں والی ہسٹری آف سائینس کو پڑہیں جس میں اس نے انسانیت کی سائینس میں ترقیات کو ادوار سے منسوب کیا ہے ، ہر دور پچاس سال کے عرصہ کا ہے اور ہر پچاس سالہ دور کو اس نے ایک مرکزی شخصیت سے منسوب کیا ہے۔مثلاً ۵۰۰ - ۴۵۰ ق م کے عرصہ کو اس نے افلاطون کا دور کہا ہے۔اس کے بعد کی نصف صدی کو اس نے ارسطو کا دور کہا ہے۔پھر اقلیدس کا اور پھر ارشمیدس کا ، وغیرہ اس چمکتی ہوئی کہکشاں کے عرصہ ۷۵۰ تا ۱۰۰ ء کو سارٹن نے مسلمانوں کے مسلسل یکے بعد دیگرے آنیوالے سائینسدانوں کے نصف صدی کے دور سے منسوب کیا ہے۔یعنی جابر، الخوارزمی، الرازی، ابوالوفا، البیرونی اور عمر خیام۔ذرا یاد کریں کہ ۷۵۰ء کا سال نبی اکرم ﷺ کی وفات کے قریب ۱۲۰ سال بعد کا ہے۔ذراسو چیں کہ یہ قریب قریب وہ وقت تھا جب امیہ پرنس عبد الرحمن اول نے افریقہ سے چین کی طرف سمندر پار کیا تھا۔اگر چہ چین کا ملک امیہ اور عباسی شہزادوں کے درمیان عداوت کے باعث باقی اسلامی دنیا سے الگ تھلگ تھا لیکن مسلمانوں نے سپین میں سائینسی علوم کے حاصل کرنے میں حضور اکرم نے کے حکم کی تعمیل میں اتنے جوش و خروش کا مظاہرہ کیا کہ قرطبہ ( دنیا کا ہیرا) کا شہر سائینسی علوم کے فروغ میں ایک زبر دست علمی مرکز بن گیا اور مشرق کے اسلامی ممالک سے سبقت حاصل کرنے میں مصروف ہو گیا۔مثلاً خلیفہ الحکم ثانی جس نے ۹۶۱۔۹۷۱ ء تک حکمرانی کی اس نے ایک لائیپر مری بنائی جس میں اس نے چار لاکھ کتابیں اکٹھی کی ہو ئیں تھیں۔اس کے دور حکومت یعنی دسویں صدی کے آخری حصہ میں یہاں ابو القاسم ( متوفی ۱۰۱۳) Abulcasis کے نام کا ایک عظیم سر جن ہو گزرا۔اس کے ساتھ یہودی فزیشن حصدے بن شپروت Sharut (متوفی ۹۹۰ء) اور ابن جبرئیل Gabirol (متوفی ۱۰۵۸ء) بھی وہاں ہو گزرے۔طلیطلہ Toledo کے شہر میں سائینسی آلات بنانے کے فن کو خوب فروغ ملا۔خاص طور پر گیارہویں صدی میں الزرقالی Arzachel نامی سائینسدان نے ایک پہلے سے بہتر اصطرلاب بنایا نیز اس نے ستاروں کی زج ٹولیڈین ٹیبلز کو ایڈٹ کیا اور طلیطلہ شہر میں کئے جانیوالے ستاروں کے