مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 277 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 277

(۲۷۷) سمجھایا جائے؟ اتنے سارے حروف ایک ہی قسم کی آواز کے نکلنے کیلئے صرف مشکلات ہی پیدا کرتے ہیں۔کیا زبان کو آسان کرنے کیلئے ان کی تعداد کم نہیں کی جاسکتی؟ میں کہنا یہ چاہتا ہوں کہ زبان کو آسان بنانے کیلئے امریکیوں کی طرز پر تجربات کرنے کی ضرورت ہے۔میں یہ نہیں کہتا کہ میرے ان خیالات کو لوگ ضرور قبول کریں گے۔چونکہ زبان کلچر کا حصہ ہے اور سینکڑوں سال میں یہ ارتقائی منازل طے کرتی ہے۔یہ بہت پیچیدہ مسئلہ بھی ہے مگر وقت کے بھی تقاضے ہوتے ہیں۔اور ان کے تابع ہونا پڑتا ہے۔اسلئے میں چاہتا ہوں کہ میری گزارشات کو لوگوں تک پہنچا ئیں اور آج کی تیز رفتار دنیا میں جو رخ ست رفتاری اور مشکلات کی طرف لے جا رہا ہو اس کو موڑنے کی کوشش کی جائے۔شاید کچھ لوگ رومن رسم الخط کی طرف جانے کی بھی سوچ رہے ہوں، جیسا کہ اس صدی کی پہلی چند دہائیوں میں ترکی کے ملک میں ہوا تھا۔مگر میرے خیال میں وہ بہت انقلابی قدم تھا اس لئے اس سے گریز بہتر ہے۔بڑے لفظوں کو ٹکڑوں میں توڑنے اور اردو حروف کم کرنے کا تجربہ اگر شروع کیا جائے تو بہتر ہو گا۔آخر میں میں یہ کہنا چاہوں گا کہ زبان کے معاملے میں کسوٹی لوگ ہوتے ہیں۔جو کچھ مقبول عام ہو جائے بلکہ بازار میں جو مقبول ہو جائے وہ ٹھیک ہوتا ہے اس لئے شاید غلط العام فصیح کی اصطلاح مشہور ہے۔کیا یہ ممکن ہے کہ سوچ بچار کے بعد ایسے تجربات کچھ کتابوں سے شروع کئے جائیں؟ پھر لوگوں کا رد عمل دیکھا جائے۔اگر ممکن ہو تو ساتھ ہی ساتھ کچھ رسالوں اور اخباروں میں چند صفحات ان تجربات کیلئے مخصوص کئے جائیں۔ٹیلی ویژن جیسے میڈیم کو بھی اس سلسلہ میں استعمال کیا جائے۔تجرباتی طور پر عنوانات ، پروگرام ، وغیرہ جو تحریری شکل میں سکرین پر نظر آتے ہیں اس مہم میں شامل کئے جائیں اور لوگوں کا رد عمل دیکھا جائے۔اس سے ایک بحث چھڑے گی اور آخر میں مثبت نتیجہ پر پہنچا جاسکے گا۔یه فکر انگیز مضمون اردو میں ڈاکٹر عبدالسلام نے کتاب ، ارمان اور حقیقت کیلئے خاص تحریر فرمایا تھا ۱۹۹۶ء