مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 276
(۲۷۶) کے اندر مرکزہ ہوتا ہے اور بر قئے باہر چکر لگاتے ہیں۔یہ خالص اردو تو ہوئی مگر طالب علم کیلئے خاصی مصیبت بنی )۔وجہ یہ ہے کہ اسے ہزار ہائیکنیکل ٹرم انگریزی میں پڑہنے ہی ہیں۔ان کو جانے بغیر وہ نہ تو کوئی سائینسی کتاب پڑھ سکے گا اور نہ رسالے، جو سب انگریزی میں ہوتے ہیں۔پھر ان ہزار ہا اصطلاحوں کو ان کی اردو اصطلاح میں یاد رکھے۔اس حال میں بہت زیادہ قباحت نہیں ہے اگر شروع ہی سے بچے کو انگریزی کی اصطلاحیں لکھائی اور سمجھائی جائیں۔دوسرا مسئلہ دوسرا مسئلہ اردو کے رسم الخط کا ہے، اگر آپ غور کریں تو ہمارا رسم الخط خاصا مشکل ہے۔لفظ سی لیکشن کو لے لیں، کیا یہ بہتر نہ ہوگا کہ اس لفظ کو سیلے بلز میں توڑ کر سی لیک شدن لکھا جائے۔بچے کو اردو نیز اردو لکھنے والوں کو اس طرح زبان بہت آسان لگے گی ، اور لکھنا مشکل نہ رہے گا۔پھر انگریزی لکھنے کی دوسری پیچیدگیوں کو کسی حد تک امریکیوں نے کم کر دیا ہے مثلاً وہ Colour کو Color لکھتے ہیں جو کہ دونوں صورتوں میں Calar پڑھا جائیگا۔کم از کم ویبسٹر ڈکشنری کی رو سے اس کی یہی آواز نکلتی ہے۔چاہے آپ اسے Colour لکھیں یا Color۔امریکیوں کے اس تجدیدی عمل کو دنیا میں کافی مقبولیت حاصل ہوئی ہے سوائے انگلستان کے۔کہنے کا مطلب یہ ہے کہ تحریر میں زبان کو آسان کرنے کا یہ تجربہ خاصا کامیاب رہا ہے اور انگریزی کے علاوہ دوسروں کیلئے انگریزی لکھنا، پڑھنا قدرے آسان ہو گیا ہے۔اردو حروف کو کم کرو ایک دوسرا مسئلہ اردو کے حروف کا ہے۔کچھ عرصہ پہلے مجھے کسی نے بتایا تھا کہ اردو کے ایک بڑے مشہور ادیب نے ٹیلی ویژن پر ایک ڈرامہ سیریز چلائی ، جسکا عنوان ٹیلی ویژن پر تو تا کہانی لکھا ہوا دکھایا جاتا رہا۔جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں اردو میں اس نام کے پرندے کو عام طور پر طوطا لکھا جاتا ہے۔ذ، ز، ظ، اورض کا فرق کس طرح اور کیونکر کسی زبان کے بچے یا زبان کے نئے سیکھنے والے کو