مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 275
ڈاکٹر عبد السلام (۲۷۵) انگریزی اصطلاحات کا مسئلہ انگریزی کا کوئی مواد اردو میں منتقل کرنے کا مسئلہ سامنے آتے ہی کئی اور سوالیہ نشان ذہن میں ابھرتے ہیں۔ایک مسئلہ تو اردو میں تعلیم کا ہے خاص طور سے جدید سائینسی علوم۔اور دوسرا اردو کے رسم الخط کا۔اردو میں ( جس سے میری مراد خالص معرب و مفرس اردو ہے ) تعلیم میرے خیال میں اب سائینسی علوم کے پھیلاؤ سے تقریباً ناممکن سی ہوگئی ہے۔ہر سال ہزار ہا کتا بیں مختلف سائینسی مضامین پر انگریزی میں چھپتی ہیں۔اسی طرح سینکڑوں کی تعداد میں معیاری رسالے، سائینسی ریسرچ، اور تنقید کے مضامین انگریزی میں چھپتے ہیں۔صرف اردو پڑھا ہوا انسان اس گراں قدرا انگریزی سائینسی لڑیچر سے محروم رہ جاتا ہے۔وجہ یہ ہے کہ یہ ناممکن ہے کہ اتنا بڑا اعلم کا ذخیرہ ترجمہ کر کے اردو میں منتقل کیا جائے۔آتی ہے۔تو پھر کیا کیا جائے؟ میں نے اس مسئلہ پر بہت غور کیا ہے ، اور میری سمجھ میں صرف ایک بات انگریزی کی بنیادی تعلیم بھی بچوں کیلئے لازم قرار دی جائے، اگر چہ اردو پر زیادہ توجہ دی جائے۔اس انگریزی کی تعلیم میں پڑہائی پر زیادہ زور دیا جائے اور لکھائی پر کم۔وجہ یہ ہے کہ یہ بہتر ہوگا کہ بنیادی انگریزی سیکھنے کے بعد طالب علم لکھے اپنی مادری زبان یعنی اردو میں۔اس طرح وہ دنیا کا بہترین اور اہم سائینسی لٹریچر بخوبی پڑھ سکے گا۔اور اس لٹریچر کو اردو میں منتقل کرنے کی ضرورت نہ رہے گی۔اب رہا اردو میں لکھنے کا سوال، اس کیلئے یہ کیا جا سکتا ہے کہ انگریزی کے تکنیکی لفظ اردو میں لکھے جائیں۔ان کے لئے اردو میں نئے الفاظ اختراع نه کئے جائیں۔چین، جاپان اور روس نے کم و بیش بھی کیا ھے۔مثلاً یہ لکھنے میں بہت سی مشکلات کا حل ہے کہ ایٹم کے اندر نیوکلئیس ہوتا ہے ( یہ جملہ کہ جو ہر