مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 232
(۲۳۲) محمد زکریا ورک مسلمانوں کا نیوٹن بارہویں صدی کے بعد دنیائے اسلام میں سائینس کے افق پر کوئی شہاب ثاقب نظر نہیں آتا ہے۔آٹھ سو سال کے طویل عرصے کے بعد بیسویں صدی میں پاکستان کے اسلامی قلعہ میں جب ایک بچہ عبد السلام کے نام کا پیدا ہوا ، تو یہ صدیوں کا جمود ٹوٹا۔دنیائے اسلام کے پہلے نوبل انعام یافتہ سائینسدان جناب عبد السلام کی ذات کئی عظمتوں کا جھم کھا تھی۔سائینس کی دنیا میں ایک تاریخ ساز شخصیت ہونے کے ساتھ ساتھ آپ ایک نہایت کریم النفس مذہبی انسان بھی تھے۔زندگی کا کثیر حصہ مغربی ماحول میں گزارنے کے باوجود مشرق کی روحانیت ہمیشہ ان کی متاع عزیز رہی۔اسی روحانیت اور دین اسلام سے وارفتہ وابستگی نے انہیں رواداری اور منکسر المزاجی کے اعلیٰ مدارج تک پہنچایا تھا۔ڈاکٹر عبدالسلام کی ولادت با سعادت ۲۹ جنوری ۱۹۲۶ء کو ساہیوال کے قریب سنتوک داس کے مقام پر ہوئی۔نیوٹن اور آئن سٹائین کی طرح آپ بھی اپنے والدین کے پہلے چشم و چراغ تھے۔آپ کا خاندان انتہائی مذہبی، نیز علمی روایات کو عزیز رکھنے والا تھا۔آپ کے والد محترم چوہدری محمد حسین عبادت گزار انسان تھے۔عبدالسلام کی بے مثال شخصیت پر ان کے والد محترم کے اعلیٰ کردار کی مہراتم نظر آتی تھی۔ان کا فقید المثال کردار آپ کے والد نے خود اپنے سانچے میں ڈھالا تھا۔چوہدری صاحب بہت نرم دل انسان تھے۔اپنے اوصاف حمیدہ کے باعث وہ ہر جگہہ بڑی عزت اور وقار کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔اسلام سے لگاؤ ان کو جنون کی حد تک تھا۔ان کی پاکیزگی طبع کی بدولت ان سے ہر ملنے والا ان سے بہت متاثر ہوتا تھا۔وہ اپنے فرائض منصبی پوری دلجمعی سے ادا کر تے تھے۔وہ عزت نفس کا خیال رکھنے والے اور اخلاقی جرات سے مالا مال تھے۔وہ حق پسند اور کچی طبیعت کے مالک تھے۔ان خوبیوں اور بے