مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 164 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 164

(۱۶۴) امریکی ایٹم بمب بنانے والے مین ہائین پراجیکٹ کے انچارچ تھے۔۱۹۷۹ء میں جس روز سلام صاحب کو نوبل انعام ملنے کا اعلان ہوا۔اس روز میری خوش قسمتی کہ میں ٹریسٹ میں تھا۔انعام ملنے کی خبر پہنچتے ہی پورے شہر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر سلام مرحوم کے متعلق باتیں اور پاکستان کے چرچے ہوتے رہے۔پاکستان کو ان سے بڑھ کر شائد ہی کوئی بڑا سفیر ملا ہو۔سلام ان دنوں لندن میں تھے۔وہ دو دن کیلئے ٹریسٹ تشریف لائے۔جشن کا سماں بندھ گیا۔ان کے استقبال کیلئے سارا سٹاف اور وہاں اس وقت موجود سائینسدان با ہر دروازے پر آن کھڑے ہوئے۔جو نہی سٹاف کار دروازے پر آکر رکی۔میں نے آگے بڑھ کر دروازہ کھولا۔اور سلام دی نوبل لا رئیٹ سے مصافحہ کا شرف حاصل کیا۔اسی شام سینٹر میں دعوت عام دی گئی۔لوگ باری باری ان سے ہاتھ ملا رہے تھے اور اپنے جذبات کا اظہار کر رہے تھے۔میری باری آئی۔دل کی عجیب کیفیت تھی۔پرانا سٹوڈنٹ ہو نے کے حوالے سے ان کے ساتھ میں بے تکلفی سے بات نہ کر سکتا تھا۔مگر اس روز خلاف عادت میں نے آگے بڑھ کر ان کو گلے لگا لیا اور مبارکباد دیتے ہوئے کہا: Sir, you have made history, you are the first from Islamic world to have received this honor۔وہ جوابا کہہ رہے تھے الحمد للہ۔الحمد للہ مجھے میڈل مل گیا ایک اور واقعہ سنئے : ۱۹۷۹ میں ان کو انعام ملنے کے بعد دنیا جہاں سے انہیں اعزازات سے نواز نے کیلئے مدعو کیا جا رہا تھا۔حکومت پاکستان نے بھی دعوت کا پیغام ان کو بھیجا۔اس سلسلہ میں سلام مرحوم کی طرف سے بہت سے پیغامات آئے۔ایک پیغام مجھے بھی لانے کا شرف حاصل ہوا۔یہ پیغام اس وقت کے پی اے ای سی کے چیر مین منیر احمد خان کے نام تھا۔اور جو اس وقت حکومت کی طرف سے سلام صاحب کی آمد پر تمام تقریبات کا انتظامات کر رہے تھے۔ڈاکٹر صاحب نے مجھے پیغام دیا کہ منیر احمد خاں سے کہنا کہ وہ حکومت پاکستان کو بتلا دیں کہ مجھے ذاتی طور پر ان کے کسی اور اعزاز اور میڈل کی بھوک نہیں ہے مجھے جس میڈل کی تمنا تھی وہ مجھے مل چکا ہے۔ہاں البتہ اگر وہ پاکستان کی سائینس کی ترقی