مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 163 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 163

(۱۶۳) ایک شام ہائزن برگ کا لیکچر تھا۔پال ڈائیر اک بھی وہاں موجود تھے۔دونوں نوبل انعام یافتہ خیال رہے کہ سلام صاحب اس ایلیٹ کلب کے ممبر ا بھی نہیں بنے تھے۔میزبان ہونے کی حیثیت سے سلام سٹیج پر آئے اور یہ واقعہ سنایا۔وزیر باند بیر صدیوں پہلے ایران کے بادشاہ کے ہاں کسی پڑوسی سلطنت کا بادشاہ مدعو تھا دونوں بادشاہ دربار میں تشریف فرما تھے۔اور ساتھ میں ایران کے بادشاہ کا وزیر اعظم بھی۔مشروبات پیش کی جاتی ہیں وزیر کے لئے اب مسئلہ یہ ہے کہ مشروب پہلے اپنے بادشاہ کو پیش کرے یا مہمان بادشاہ کو۔دونوں صورتوں میں اعتراض کی گنجائش نکلتی ہے۔پرانے زمانے کے وزیر باتدبیر سیانے ہوا کرتے تھے۔اس نے اپنے بادشاہ کے طرف مشروب بڑھاتے ہوئے کہا ایک بادشاہ کو ہی زیب دیتا ہے کہ وہ دوسرے بادشاہ کو مشروب پیش کرے It befits one King to present to another یہ دلچسپ واقعہ سنا کر سلام نے کہا آج میری بھی یہی کیفیت ہے۔مگر اس وزیر با تدبیر نے میرا مسئلہ حل کر دیا۔میں دعوت دیتا ہوں کہ جناب ڈائیر اک تشریف لائیں اور ہائیزن برگ کو متعارف کرائیں۔It befits one Nobel laureate to introduce another۔اس کانفرنس کا ماحول جدا گانہ اور نرالا تھا۔یوں لگتا تھا کہ جیسے ایک سہانا خواب دیکھ رہا ہوں۔فزکس کی دنیا کے چمکدار ستارے ہر طرف جگمگ جگمگ کر رہے تھے۔ماحول اتنا انسپر اتنگ تھا کہ گویا لائف ٹائم کا تجربہ تھا۔ایسا کام صرف اور صرف سلام کی شخصیت ہی کر سکتی تھی۔ایک دفعہ ایسا ہوا کہ ڈاکٹر صاحب نے امریکہ میں ہونے والی ایک بین الا قوامی کانفرنس میں اپنی ریسرچ پیش کی۔دوسرے روز پریس میں تصویر شائع ہوئی جس میں سلام اور پروفیسر اوپن ہائیمر جو کانفرنس میں صدارت کے فرائض انجام دے رہے تھے سٹیج پر کھڑے ہیں۔اس تصویر کا کا پیشن یہ تھا: Salam is asking Prof Oppenheimr: give me my Nobel Prize یادر ہے کہ پروفیسر اوپن ہائیمر ایک مایہ ناز تھیورٹیکل فزے سسٹ تھے جو دوسری جنگ عظیم کے دوران