مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 159
(109) عبد الطیف چوہدری (پروفیشنل انجنیر - آباده) گو ہر شب چراغ جب سے یہ دنیا کے آب و گل معرض وجود میں آئے ہیں۔موت و حیات کا سلسلہ ان میں جاری و ساری ہے۔افق مشرق سے طلوع ہونے والی ہر صبح جہاں اپنے دامن میں زندگی کے ان گنت شگوفے لیکر آتی ہے۔وہاں دن ڈھلنے تک کتنی ہی روھیں اپنی زندگی کے ایام پورے کر کے موت کی آغوش میں سو جاتی ہیں۔وقت کا پیہم چرخ گردوں جانے والوں کی محبت کو یا تو رفتہ رفتہ بلکل محو کر دیتا ہے۔اور یا پھر ان کی داستان حیات عہد ماضی کا ایک حصہ بن کر رہ جاتی ہے۔جس میں آنیوالوں کیلئے دل چسپی کا کوئی سامان نہیں ہوتا۔اس کے برعکس انہیں اپنائے آدم میں معدودے چند ایسے ممتاز اور نادر روزگار وجود بھی ہوتے ہیں جو گل نرگس کی طرح صدیوں ہی نہیں بلکہ ہزاروں سالوں میں ایک بار شاخ ہستی پر نمودار ہو کر چمن انسانیت کو زینت بخشتے اور اپنی بھینی بھینی خوشبو سے تمام نسل انسانی کو معطر کر دیتے ہیں۔اور اپنے نیک اور پاکیزہ عملی نمونہ کی بدولت خدا کے عزوجل کی نگاہ شفقت و التفات کا مرکز بن کر روحانی اعتبار سے ہمیشہ کیلئے زندہ جاوید ہو جاتے ہیں۔ان کی روح پرور اور دلنواز یا دیں ذہن کے پردوں پر کچھ اس طرح مرتسم جاتی ہیں۔جو دنیا کے ہزاروں پے در پے رونما ہونے والے انقلابات سے بھی مٹائی نہیں جاسکتیں۔ایسے ہی نابغہ روزگار اور زندہ جاوید وجودوں میں ایک پیارا وجود محترم ڈاکٹر عبدالسلام مرحوم کا تھا۔ان کی آکسفورڈ میں ۲۱ نومبر ۱۹۹۶ء کو وفات کے ساتھ پاکستان بلکہ تیسری دنیا اس عظیم محسن کی خدمات جلیلہ سے محروم ہو گئی۔ڈاکٹر صاحب سے میرا بہت لمبے عرصہ کا تعلق تھا۔وہ بھی گورنمنٹ کالج کے تعلیم یافتہ تھے اور میں بھی۔میں ان سے عمر میں دو سال بڑا ہوں۔میرے کینیڈا آنے کے باعث اور ان کی مصروفیات کے