مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 141
بھولتا۔(۱۴۱) میری زندگی میں فقط دو دکھ ہیں۔ایک تو یہ کہ پاکستان میں سائینس دانوں کی اتنی تو قیر نہیں جتنی ہونی چاہئے۔دوسرے یہ کہ عالم اسلام میں سائینس کی اتنی قدر نہیں جتنی کہ ہونی چاہئے۔سائینس میگزین ملک میں خاصی تیزی سے مقبول ہوتا گیا۔لیکن ڈاکٹر عبد السلام کے زیر اثر یہ اردو رسالہ ملک میں لوگوں کے ہاتھ میں آ گیا۔اور مجھے دنیا بھر کا سائینسی لٹریچر ڈاک میں آنے لگا۔جیسے نیچر، نیو سائینس ٹسٹ، یہ جرائد اور رسالے اردن ، ترکی ، امریکہ، برطانیہ سے آتے تھے۔کوئی رسالہ چینی میں، عربی میں، اور کوئی ترکی میں۔گویا سائینس سے نابلد شخص کے کندھوں پر سائینس کا بوجھ ڈال دیا گیا جو شخص میری خاطر، اردو کی خاطر، پاکستان کی خاطر احسانات کئے جا رہا ہے میرا بھی حق بنتا ہے کہ اس کا احسان اتارا جائے چنانچہ میں نے ریاضی کے علاوہ تمام علوم کے نظریات سے دوستی کر لی۔ڈاکٹر صاحب میرے مثالی قاری تھے۔میں دراصل انہی سے پڑھوانے کیلئے پر چہ ایڈٹ کرتا تھا وہ غلطیوں کی نشاندہی اور اپنی رائے سے مجھے نوازتے رہے ایک بار مجھے اٹلی سے تار موصول ہوا کہ ڈاکٹر صاحب بنگلہ دیش جاتے ہوئے فلاں روز فلاں ائیر لائن کی پرواز سے کراچی سے گزریں گے اگر آپ نے رابطہ کرنا ہو تو کرلیں۔محض گفتگو کرنا تو بیکار کوئی ایسی گفتگو ہونی چاہئے جس سے سائینس میگے زین کے قارئین کو بھی فائدہ پہنچے۔ڈاکٹر سلام اور میجر آفتاب حسن کے درمیان انگریزی اور اردو اخبارات میں یہ بحث شروع ہوئی تھی کہ اردو زبان میں انگریزی اصطلاحوں کا استعمال ہو تو کیونکر ہو؟ میرے رسالے نے بھی اس میں حصہ لیا میں آدھا طرف دار ڈاکٹر صاحب کا تھا اور آدھا میجر صاحب کا۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ڈاکٹر سے بھی ڈانٹ کھائی اور میجر سے بھی۔ڈاکٹر صاحب کی ساری زندگی لندن میں گزری۔انہوں نے کہا کہ انگریزی اصطلاحات کو جوں کا توں اردو رسم الخط میں ہی لکھ لینا چاہئے۔میجر صاحب کا مؤقف تھا کہ عربی اور فارسی زبانیں اردو