مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 132
(۱۳۲) نے کیلئے تھیور نیکیل فریم ورک تیار ہو چکا ہے تا ہم ایسے تجربات کامیابی سے کئے جار ہے ہیں جو اس بات کی تائید کریں گے کہ یہ نظریاتی پیش گوئیاں سچی ہیں۔آئی سی ٹی پی کی داغ بیل انٹر نیشنل سینٹر فار تھیوریٹیکل فزکس کی تخلیق یونیسکو UNESCO اور انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی IAEA (وی آنا) کے زیر نگرانی تھرڈ ورلڈ کے سائینس دانوں کو متحد کرنے کی جانب ایک اور فعال قدم ہے۔پروفیسر سلام پنجاب یونیورسٹی لاہور میں خود سائینس دان کے طور پر آئی سولیشن کا تلخ تجربہ کر چکے تھے آئی سی ٹی پی ترقی پذیر ممالک کے پر امید زرخیز سائینسی دماغوں کے لئے ایک نہایت مفید فورم مہیا کرتا ہے جہاں وہ ایسے ٹرینگ پروگرامز میں شریک ہوتے جو ریسرچ کے فرنٹیر ایریاز سے تعلق رکھتے نیز وہ ترقی یافتہ ممالک سے آئے ہوئے ہم عصر سائینس دانوں سے تبادلہ خیال کرتے ہیں۔شاید آئی سی ٹی پی بذات خود ایک نادر المثال تجر بہ کا ادارہ ہے۔جو اقوام متحدہ کی صحیح روح کی نمائندگی کرتا کیونکہ یہ دنیا کے تمام سائینس دانوں کو ایک لڑی میں پروتا ہے۔اس چیز کی پرواہ کئے بغیر کہ ان ( سائینس دانوں) کا مقام کیا ہے؟ یہ کس ملک سے آئے ہیں ؟ یا ان کے سیاسی نظریات کیا ہیں۔پر وفیسر سلام کا ارادہ ہے کہ آئی سی ٹی پی جیسے ایک درجن کے قریب مراکز ریسرچ کے مخصوص امیر باز میں دنیا کے مختلف ممالک میں قائم کئے جائیں۔جبکہ یہ ادارہ پہلے ہی بلوغت کو پہنچ کر انٹر نیشنل سینٹر آف سائینسز کا مقام حاصل کر چکا ہے۔ستر ہویں صدی میں نیوٹن کی ایجاد کر وہ فزکس نے یوروپین سوسائٹی پر دیر پا اثر چھوڑا اس کی وجہ سے یوروپ میں نئے ثقافتی انقلاب کا آغاز ہوا جس کے نتیجہ میں ترقی اور خوشحالی کا دور صنعتی انقلاب کے زور اور دباؤ سے شروع ہوا ، ہاں اس کا منفی اثر بھی ہوا۔اس صنعتی انقلاب کے بعد کے اثرات میں پس ماندہ ممالک کی کالونائزیشن اور مارکس ازم کا پہنچنا ہے۔اس صنعتی انقلاب کے مدعوین کے (بد ارادوں) سے پوری پس ماندہ دنیا کا خوب ہی استحصال کیا گیا۔فطری قوتوں کی گرینڈ یونی فیکیشن سے لازماً اکیسویں صدی میں ایک نیا سوشل اور کلچرل