مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 125
(۱۲۵) پروفیسر ایچ ایس ورک۔گورو نانک دیو مینورسٹی امرتسر انسانوں اور فطرتی قوتوں کو متحد کر نیوالا ہے „Unifier of Men and Forces ______ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں میری پوسٹ گریجوئیشن (۶۳-۱۹۶۱) کے دوران پرو فیسرایم زیڈ خان نے ایک بار پر و فیسر عبد السلام کی تھیو رٹیکل ریسرچ کے بارہ میں تذکرہ کیا تھا انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ پروفیسر عبد السلام اپنے سائیففک کنٹری بیوشن کی بناء پر نوبل انعام کے مستحق ہیں مگر عظیم رشین سائینس دان پر و فیسر لان ڈاؤ Landau کی طرح ان کو بھی نظر انداز کر دیا جائیگا کیونکہ یہ فاؤنڈیشن مغربی نصف کرہ ارض کے سا ه درخشان۔۔ڈاکٹر حمید السلام ئینس دانوں سے بھری ہوئی ہے۔پروفیسر خان کی یہ پیش گوئی تب پوری ہوگئی۔جب سٹین فورڈ کی نئیر ایکسل ریٹر SLAC میں تجربات کے ذریعہ ان کی تھیوری کی پیش گوئیاں الیکٹرو و یک یونی فیکیشن کے بارہ میں تجرباتی طور پر ثابت ہو گئیں۔اور ۱۹۷۹ء میں ان کو نوبل انعام سے نوازا گیا بعد میں مجھے یہ بھی معلوم ہوا کہ شہرہ آفاق کا سمک رے مزے سسٹ پروفیسر پی ایس گل جو مسلم یو نیورسٹی کے فزکس کے شعبہ کے چئرمین تھے انہوں نے ڈاکٹر سلام کو تھیور ٹیکل فزکس کی پروفیسر شپ کی پیش کش کی تھی۔۱۹۶۰ء کی دہائی میں ہائی انرجی فزکس کو بیواتران اور کا سموٹر ان مشینوں کی امریکہ میں ایجاد کے بعد بہت تقویت ملی چنانچہ ہر ہفتہ ایک نیا پارٹیکل دریافت ہوا کرتا تھا ایلی مینٹری پارٹیکلز کے خاندان نے خاندانی منصوبہ بندی کے بارہ میں زیادہ توجہ نہ دی تھی پر و فیسر گل ہمیں ہائی انرجی فزکس کا کورس پڑہاتے تھے ایلی میٹری پارٹیکلز کی اکثریت کی دریافت کا سمک ریز میں ہوئی تھی اس فیلڈ میں رہ نما تحقیق کا بنیادی کام شکا گو۔لاہور۔گلمرگ۔اور علی گڑھ میں ہوا تھا۔اس زمانہ میں پروفیسر