مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 4
(۴) فائن برگ نے دلیل یہ دے تھی کہ اگر و یک فورس ویکٹر بوسان کے ذریعہ میڈیٹ کرتی ہے اور اگر مو آن muon اور الیکٹران دونوں ایک ہیں تو پھر یہ پروسیس نا قابل یقین حد تک رفتار سے عمل پذیر ہوگا۔اس دوران جولین شونگر Schwinger مجھے یقین دہانی کرا چکا تھا کہ مو آن اور الیکٹران نیوٹرینو دونوں ایک جیسے نہیں ہو سکتے ، لہذا میں اس ضمن میں مطمئن ہو چکا تھا۔تا ہم وائن برگ کی ایک اور کیلکو لیشن ایسی تھی جس نے مجھے اپنا گرویدہ بنالیا تھا۔فائن برگ نے جو نتیجہ اخذ کیا تھا وہ بنگ ملز Yang-Mils گیج تھیوری نے بھی قبل از وقت جتلایا تھا چنانچہ میں نے یہ مصنوعی دلیل اخذ کر لی کہ سافٹ لی بروکن بینگ ملز تھیوریز جو ہیں وہ ری نار مالائز ہو سکتی ہیں۔والٹر گلبرٹ کی نصیحت پر عمل کرتے ہوئے کہ میں ان کے دلدادہ مرشد سے ملاقات کروں میں نے عبد السلام کی یہ دعوت قبول کر لی کہ میں اپنی ریسرچ امپیرئیل کالج لندن میں پیش کروں۔وہاں میری تقریر کی بہت دلپذ برائی ہوئی۔تقریر کے بعد سلام مجھے اپنے گھر لے گیا جہاں اس کی بیگم نے ہمارے لئے نہایت مزیدار کھانا تیار کیا ہوا تھا۔اس کے بعد جب میں کو پن بیگن واپس پہنچا تو دو پری پرنٹ میری میز پر پڑے تھے ایک سلام نے لکھا تھا اور دوسرا کا مافوچی Kamefuchi نے۔دونوں نے میری ریسرچ میں موجود فاش غلطی کی طرف نشان دہی کی تھی۔اس کے کئی سال بعد سلام نے مجھے بتلایا کہ یہی وجہ تھی کہ اس نے الیکٹرو و یک پر میرے پہلے سے بہتر پیپر کو نہیں پڑھا تھا۔اگر چہ یہ ایک قابل اعتبار بہانہ تھا۔استنبول کی سیر ۱۹۶۲ء میں فیضا گرسی Feza Gursey نے دیدہ زیب باسفورس کے کنارے واقع را برٹس کالج میں ترکش سمر سکول کے انعقاد کا انتظام کیا تھا۔سلام اور میں دوسرے مقررین کے علاوہ یہاں مدعو تھے۔یہ دور پارٹیکل فزکس میں نہایت ایکسا نیٹنگ ٹائم تھا۔چند ماہ قبل ہائر سیمٹری کی سویپ سٹیک (یعنی قرعہ لاٹری ) کو عبد السلام کے ایک اور نامور شاگرد یوئیل نی مان Neeman نے سٹرانگ انٹرایکشن کی سکیم کو وضع کر کے جیت لیا تھا اور یہی چیز مری جیل مین