مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 424
کچھ مؤلف کے بارہ میں مؤلف کتاب (۱۹۴۶ء) پاکستان اور جرمنی میں قیام کے بعد پچھلے تمہیں سال سے کینیڈا میں مقیم ہیں۔تعلیم الاسلام کالج ربوہ سے ایف اے، اور سندھ مسلم لاء کالج کراچی سے بی اے ایل ایل بی کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد آپ نے جرمنی کی سب سے پرانی یونیورسٹی کو تھنگن میں جرمن زبان سیکھنے کے ساتھ ساتھ دو سال تک قانون کی تعلیم حاصل کی۔آپ کا ایک بیٹا کیمیکل انجنئیر اور دوسرا بیٹا ٹیلی ویژن جرنلسٹ ہے۔تحریر کا ملکہ آپ کو اپنے والد محمد ابراہیم خلیل (درک) مرحوم سے ورثہ میں ملا ہے۔آپ کے مبسوط اور سکہ بند مضامین پچھلے تمیں سال سے پاک و ہند کے مختلف جرائد جیسے الفرقان، لاہور، حریت، جنگ، سیارہ ڈائجسٹ، اردو ڈائجسٹ، حکایت ، الفضل ، بدر، تہذیب الاخلاق (علی گڑھ) برطانیہ کے الفضل انٹرنیشنل، ریویو آف ریلجز۔کینیڈا کے ٹورنٹو سٹار، گلوب اینڈ میل، پاکیزہ، احمد یہ گزٹ اور امریکہ کے ہفت روزہ پاکستان لنک میں شائع ہو چکے ہیں۔انگلش زبان پر بھی آپ کو قدرت حاصل ہے اور ایک درجن سے زیادہ عالمانہ مضامین اسلام اور ہسٹری آف سائینس کے موضوع پر شائع ہو چکے ہیں۔آپ کے ایک انگلش مضمون کی افادیت کے پیش نظر اس کا جرمن میں ترجمہ ہوا۔اور اب قازقستان کے ایک صاحب علم اس کا رشین زبان میں ترجمہ کر رہے ہیں۔انگلش کے مضامین انٹرنیٹ پر بھی مطالعہ کئے جاسکتے ہیں۔۱۹۶۷ء میں آپ نے سیارہ ڈائجسٹ لاہور کے انعامی مقابلہ مضمون نویسی میں تین صد روپے کا اول انعام حاصل کیا۔۱۹۷۹ء میں آپ نے مجلس خدام الاحمدیہ پاکستان کے مقابلہ مضمون نویسی میں تیسرا انعام حاصل کیا اور پھر ۱۹۹۷ء میں تہذیب الاخلاق علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (انڈیا) کے مقابلہ مضمون نویسی میں آپ کو اول انعام کے ساتھ تین ہزار روپے نقد کا انعام دیا گیا۔مضمون نگاری کے علاوہ آپ ترجمہ نگاری میں بھی مشاق ہیں چنانچہ ۱۹۸۹ء میں آپ کی ترجمہ کردہ کتاب عظیم زندگی منصہ شہود پر آئی۔پھر آپ کی تالیف میف رموز فطرت ۱۹۹۶ء میں شائع ہوئی۔اور ۲۰۰۰ء میں ایک اور ترجمہ کردہ کتاب گلدسته خیال زیور طبع سے آراستہ ہو کر کینیڈا کے اردو ادب میں زبردست اضافہ کا باعث ہوئی۔- مسلمانوں کا نیوٹن کی اشاعت کے بعد آپ اپنا مجموعہ مضامین شائع کرنیکا ارادہ رکھتے ہیں۔و با الله التوفیق