مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 34
(۳۴) اس کی زندگی کا آغاز نہایت عاجزانہ طریق سے ہوا۔فی الحقیقت سلام کا ایک جزو کلام یعنی پسندیدہ فقرہ یہ ہوتا تھا کہ میں تو ایک عاجز انسان ہوں۔وہ اس فقرہ کو اس وقت استعمال کرتا تھا جب کوئی شخص فزکس کے مسائل کے بیان کو ضرورت سے زیادہ پیچیدہ بنا نیکی کوشش کرتا جو کہ غیر ضروری ہوتا تھا۔اس سے قبل کہ وہ بر طانیہ روانہ ہوتا اس نے گورنمنٹ کالج لاہور اور پنجاب یو نیورسٹی میں تعلیم مکمل کی۔پھر اس نے ۱۹۴۶ میں سینٹ جانز کالج ( کیمبرج ) میں فزکس اور ریاضی میں امتیازی طور پر ڈبل فرسٹ پوزیشن حاصل کی۔اسکے بعد ۱۹۵۲ء میں کیونڈش لیبارٹری سے اس نے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔اس کے بعد وہ کچھ سالوں کیلئے لاہور واپس چلا آیا مگر ۱۹۵۴ء میں برطانیہ واپس آنے پر اس کا تقرر کیمبرج میں بطور لیکچرار کے ہوا۔بلا شبہ سلام کے تعلیمی کیرئیر کے آغاز کے بنیادی دور میں سب سے زیادہ انفلوئنس سینٹ جانز کالج میں اس کے اتالیق (مینٹر ) پال ڈائیر اک جیسے عظیم انسان کا تھا۔ڈائیر اک اسکا ساری زندگی ہیرو رہا نہ صرف عظیم المرتبت فزے سسٹ ہونیکے ناطے سے بلکہ ایک انسان ہونے کے ناطے سے بھی۔جو مادی اشیاء اور دولت میں بلکل دلچسپی نہ رکھتا تھا۔سلام نے خود بھی کبھی مادی دولت کیلئے دلی آرزو کا اظہار نہ کیا بلکہ اس کے برعکس تیسری دنیا سے آئے ہوئے طلباء اور پوسٹ ڈاکٹریٹ طلباء کے (تعلیمی اخراجات ) وہ اپنی جیب سے بخوشی ادا کرتا تھا۔پیٹرک بلیر کاٹ Blackett ۱۹۷۴-۱۸۹۷ ء کی تجویز پر سلام نے ۱۹۵۷ میں امپیرئیل کالج لندن میں نقل مکانی کی جہاں اس نے تھیور ٹیکل فزکس گروپ کی بنیاد رکھی۔پھر ۱۹۵۹ء میں اس کا انتخاب رائیل سوسائٹی کے فیلوشپ کے لئے ہوا۔امپرئیل کالج لندن میں وہ پروفیسر آف فزکس تا دم زندگی رہا اور یہ وہ جگہہ ہے جہاں میں خوش قسمتی سے اس کا ڈاکٹریٹ سٹوڈنٹ تین سال ۱۹۶۹ تا ۱۹۷۲ رہا اس نے ۱۹۶۴ میں انٹر نیشنل سیٹر فار تھیورٹیکل فزکس کی بنیاد اٹلی کے شہر ٹیسٹ میں رکھی جس کا وہ کچھ ہی عرصہ پہلے تک ڈائر یکٹر تھا۔اس سے پہلے کی کامرانیوں میں سے نمایاں کام کو اہم فیلڈ تھیوری میں رینار مالائز یشن کے رول کا تھا۔اس نے کیمبرج میں اپنے ہم عصر سائینس دانوں کو فزکس کی نہایت مشکل اور پیچیدہ پرابلم