مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 327
(۳۲۷) بشیر الدین سامی (لندن) نے بیان کیا: محترم ڈاکٹر عبد السلام کو جب نو بل انعام ملنے والا تھا تو ایک ہفتہ قبل حمید احمد لائل پوری نے خواب میں دیکھا کہ ٹیلی ویژن پر اعلان ہورہا ہے کہ ڈاکٹر صاحب کو نوبل انعام دیا گیا ہے۔انہوں نے فی الفور اس خواب کی اطلاع ڈاکٹر صاحب کی بیگم محترمہ امتہ الحفیظ صاحبہ کو دی۔بعد ازاں حمید احمد، ڈاکٹر صاحب کی دعوت پر سویڈن میں منعقدہ شاہی تقریب میں بطور مہمان کے شامل ہوئے تھے۔(الفضل انٹر نیشنل لندن - ۲۴ اپریل ۱۹۹۶) چوہدری عبد الحمید (لاہور) نے بیان کیا: جب ڈاکٹر عبدالسلام صدر پاکستان کے سائینسی مشیر تھے تو وہ پاکستان سال میں چار پانچ مرتبہ آیا کرتے تھے۔ایک دفعہ ملتان کے ہوائی اڈہ پر کمشنر، اور دیگر اعلیٰ افسران انہیں خوش آمدید کہنے کیلئے آئے ہوئے تھے، ڈاکٹر صاحب جب ہوائی جہاز سے اترے تمام افسران وی آئی پی روم کی طرف چل پڑے، اتنے میں ان کی نظر ایک نہایت چاق و چوبند حوالدار پر پڑی۔ڈاکٹر صاحب اس کی طرف چل دئے اور اس کے پاس پہنچ کر اس کو پیار سے گلے لگایا اور اسے اپنے ہمراہ وی آئی پی روم میں لے آئے، افسران سے اسکا تعارف کرایا۔یہ حوالدار ملازم حسین تھے جو بچپن میں ان کے کلاس فیلو تھے۔جتنی دیر ڈاکٹر صاحب وہاں رہے انہوں نے ملازم حسین کو ساتھ بٹھائے رکھا۔(الفضل ۷ ، اکتوبر ۱۹۹۵)۔۔۔۔۔۔۸۸ اسی طرح چوہدری عبد الحمید صاحب نے خاکسار کی کتاب رموز فطرت پڑہنے کے بعد اس پر پانچ صفحات پر مشتمل (مورخه ۲۲ مئی ۱۹۹۷ ء) سیر حاصل تبصرہ فر ما یا۔نیز بعض باتوں ، واقعات ،اور ناموں کے غلط ہونے کی طرف نشاہد ہی کی۔ان میں سے ایک بات یہ تھی کہ کیا ڈاکٹر سلام کو آئن سٹائین