مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 294 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 294

(۲۹۴) ہوں جو تم چھپاتے ہو اور جو کچھ ظاہر کرتے ہو۔اور جو بھی تم میں سے ایسا کرے وہ سیدھی راہ سے بھٹک چکا ہے۔اور نگ زیب نے اسی سورۃ کی آیت نمبر ۹ بھی تلاوت کی: اللہ تمہیں ان سے منع نہیں کرتا جنہوں نے تم سے دین کے معاملہ میں قتال کیا اور نہ تمہیں بے وطن کیا۔تم ان سے نیکی کرو اور ان سے انصاف کے ساتھ پیش آؤ۔یقینا اللہ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۱۸۳۵ء میں برٹش انڈیا میں ایک پے ٹیشن انگریز حکومت کے سامنے پیش کی گئی جس پر آٹھ ہزار مسلمانوں کے دستخط تھے اس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ مسلمانوں کو انگلش میں تعلیم کی کوئی ضروت نہیں۔بیان کیا جاتا ہے کہ ڈاکٹر عبد السلام کی عظیم زندگی اور سائینسی کارناموں نیز سائینس کی دنیا میں انہوں نے جو حیران کن تھیوریز پیش کیں ان پر مزید تحقیق کا کام کر کے دنیا کے ۱۶۔سائینس دان اب تک ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں حاصل کر چکے ہیں۔اس ضمن میں دسمبر ۲۰۰۱ء میں نیشنل یو نیورسٹی آف کولمبیا (بو گوٹا، جنوبی امریکہ) کے نو جوان لیکچرار Alexis De Greift نے لندن یونیورسٹی کو اپنا ڈاکٹریٹ کا مقالہ پیش کیا، جس کا نام ہے: ICTP, 1960-1979 Idealogy & Practice in a UN institution for scientific co-operation and Third World Deveopment, Imperial College, University of London, UK ڈاکٹر ڈی گرائیف نے یہ عالمانہ مقالہ مجھے جون ۲۰۰۲ ء میں ای میل کے ذریعہ بھجوایا تھا کیونکہ عاجز نے ان کی اس کے لکھنے، پہلے دو ابواب کی نوک پلک سنوارنے ، نیز پروف ریڈنگ میں مدد کی تھی۔مقاله ۴۳۲ صفحات پر مشتمل ہے۔مقالہ میں کتابوں ، خطوط، رسالہ جات کے حوالے ان گنت ہیں۔دنیائے اسلام اور عرب ممالک میں سائنس کے احیاء کیلئے کم سے کم پانچ چیزوں کا ہونا لازمی