مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 278 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 278

ڈاکٹر عبد السلام قرطبہ مسجد کے افتتاح پر تقریر کے ۱۰ ستمبر ۱۹۸۲ - بزبان انگلش۔ترجمہ محمد زکریا ورک اشتہارات کا اللہ الا الله و اشهدان تیری عید تا در سوله اعوذ بالله من الشيطن الرجيم المبسم الله الا من الرحيرة Speech Deliiend on the shining the corn mosque 10-9-1982۔(۲۷۸) رسالت مآب حضرت محمد ﷺ نے اپنے پیروکاروں کو تاکید کی کہ علم کا حاصل کرنا خاص طور پر سائینسی علم کا، ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے۔یه ارشاد قرآن مجید میں بار بار دہرائے گئے احکامات کے عین مطابق تھا۔جو کہ قرآن پاک کا آٹھواں حصہ ہیں جن میں مومنوں کو تاکید کی گئی ہے کہ وہ فطرت کا مطالعہ کریں، تدبر کریں، عقل کا پورا پورا استعمال کریں، اور سائینسی امور کو اپنی کمیونٹی لائف کا لازمی جزو بنا لیں۔مسلمانوں کو یہ بھی نصیحت کی گئی کہ وہ سیکھیں کہ فطرت کو تسخیر کیسے کیا جا سکتا ہے؟ سائینس اور ٹیکنالوجی کے حاصل کرنے کے بارہ میں یہ احکامات در اصل تفکر اور تسخیر کا حصہ ہیں جس پر پاک کتاب میں زور دیا گیا ہے۔حضور اکرم کی رحلت کے ایک سو سال کے اندر اندر مسلمانوں نے اوپر مذکورہ احکامات پر عمل کرتے ہوئے اس دور میں موجود تمام یونانی، عبرانی، اور ہندوستانی سائینسی علوم کی کتب کو عربی زبان میں منتقل کر دیا۔یہ کام اس رفتار سے کیا گیا کہ انسانی تاریخ میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی ہے۔نہ صرف یہ کہ مسلمانوں نے سائینسی علوم پر عبور حاصل کیا بلکہ ان میں خود انہوں نے اتنی سبقت حاصل کر لی کہ انہوں نے بذات خود نئے سائینسی علوم کو تخلیق کرنا شروع کر دیا۔