کیا احمدی سچے مسلمان نہیں؟ — Page 9
کا فرقہ ہے۔قارئین کرام امولوی صاحب نے زندیق کا لفظ استعمال کیا ہے۔سوائے اس کے کہ اسے ہرزہ سرائی کہا جائے اور کیا قرار دیا جاسکتا ہے معلوم ہوتا ہے مولوی صاحب کے ذہن میں باقی فرقوں کے فتووں کے یہ الفاظ حاضر نہ تھے جب ہی یہ نیا شوشہ چھوڑنے کی کوشش کی ہے ورنہ زندیق کی اصطلاح تو بہت پہلے ان کے متعلق علمائے حرمین شریفین استعمال کر چکے ہیں۔چنانچہ کتاب حسام الحرمين على سحر الكف والمين مصنفہ مولوی احمد رضا خان بریلوی مطبوعه مطبع اہل سنت والجماعت بریلی سن اشاعت ۳۶ د بمطابق منشاء کے صفویہ ہے تا ہے پر دیکھیں کیسا تفصیلی اور غیر مبہم قومی درج ہے جب کسی بعد آپ کو تو ایسی جسارت نہیں کرنی چاہیئے تھی احمدیوں کے قتل کا فتوئی احمدیوں کو زندیق قرار دینے کے بعد لدھیانوی صاحب احمدیوں کے قتل کا فتویٰ جاری کرتے ہیں۔شو - تو یاد رکھیے ایہ فتویٰ بھی کوئی نیا نہیں ہے۔امت کی سینکڑوں سال کی تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ یوسف لدھیانوی کے ہم مزاج ظاہر پرست علماء نے بارہا دوسرے فرقوں کو صرف مرتد ہی قرار نہیں دیا بلکہ واجب القتل بھی قرار دیا ہے۔صرف فرقوں ہی کو نہیں بلکہ اسلام کے جید علماء کے خلاف اسی طرح قتل کے فتوے جاری کئے گئے اور ان کا خون مباح قرار دیا گیا۔سب سے زیادہ دردناک واقعہ کربلا کا واقعہ ہے جس کا دکھ قیامت تک مٹ نہیں سکتا۔در میانوی مولوی صاحب کے ہمنوا قاضی شریح کا حضرت امام حسین کے خون کو مباح قرائہ دنیا بتاتا ہے کہ لدھیانوی صاحب کے مزاج کے مفتی محض اس دور کی ہی پیداوار نہیں۔یہاں ہم مثال کے طور پر چند ایسے بزرگان است کی مختصر فہرست درج کر رہے ہیں جن کے خلاف صرف کفر کا نہیں بلکہ زندیق کا بھی فتوئی دے کر واجب القتل قرار دیا گیا۔