کیا احمدی سچے مسلمان نہیں؟ — Page 19
۱۹ اقدس محمدرسول اله صلی الہ علیہ وسلم ہمیں طلع فرما چکے ہیں کہ قیامت اشرار الناس پر آئے گی۔پس اس دنیا میں سر ہے آخر پر جو انسان دم توڑیں گے وہ نہایت بد بخت اور شریر ہونگے۔اب بتائیے جناب لدھیانوی صاحب کر محض زمانی طور پر آخری ہونا کیا اب بھی آپکے نزدیک وجہ فضیلت ہے؟ علاوہ ازیں مرتبہ اور مقام کی بحث مں تو کبھی بھی نہ پیدائش دیکھی جاتی ہے اور نہ موت دیکھی جاتی ہے۔مثلاً بنو امیہ کا آخری خلیفہ مروان ثانی بن محمدبن مروان تھا۔کیا د مینانوی صاحب یا کوئی اور انکا ہمنوا مولوی جو عربی دانی کا زیم رکھتا ہوا اسے بنو امیہ کا خاتم الخلفاء قرار دے سکتا ہے۔اسی طرح کیا بنو عباس کے آخری خلیفہ معتصم بالل کو کوئی اہل علم بنو عباس کا خاتم الخلفاء قرارد ے سکتا ہے۔ہرگز نہیں۔کیونکہ لفظ خاتم مرتبے اور مقام اور فضیلت کے لحاظ سے اور بلندی کے لحاظ سے آخری مقام پر فائزہ ہونے کا تقاضا کرتا ہے۔ورنہ آپ کے معنوں میں یہ لفظ استعمال کیا جائے تو قیامت اشرار الناس پر نہیں آنی چاہئیے بلکہ سار سے بنی آدم میں سے بلند مرتبہ لوگوں پر آنی چاہیے اور انہیں تو پھر انسانوں کا خاتم قرار دینا چاہیئے۔مولوی صاحب ایک اور مثال دیکھیں۔فضائل صحابہ کا جہاں ذکر ملتا ہے یا فضائل خلفاء کا ، وہاں آپ لوگ یا تو یہ بحث اٹھا تے ہیں کہ پہلا کون تھا۔حضرت علی رضی اللہ عنہ پہلے تھے یا حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ۔یا جب مناقب کی بات کرتے ہیں تو آج تک یہ کبھی پڑھنے سننے میں نہیں آیا کہ اس لحاظ سے کسی صحابی کو افضل و برتر قرار دیا گیا ہو کہ وہ آخری صحابی تھا یا آخری خلیفہ تھا۔پس عقل کے ناخن لیں اور ہوش کی آنکھیں کھولیں اور اپنے پیر و مرشد بانی دیوبند حضرت مولانامحمد قاسم نانوتوی صاحب کی پر حکمت ودلیل کو بار بار پڑھنے اور سوچنے کی کوشش کریں کہ :۔عوام کے خیال میں تو رسول للہ سلم کا ختم ہونا بایں معنیٰ ہے کہ آپ کا زمانہ انبیاء سابقی کے زمانے کے بعد اور آپ سب میں آخری نبی ہیں مگر اہل فہم پور روشن گاه مقدم با نافرمانی میں بالذات کچھ فضیلت نہیں پھر مقام مدح میں ولیکن