کیا احمدی سچے مسلمان نہیں؟ — Page 17
14 سابھی انصاف رکھتے ہوں گے صاف پہچان جائیں گے کہ جو نظر یہ ہم پیش کرتے ہیں وہ بہت زیادہ عزت و تکریم اور توقیر کا حامل ہے۔بہ نسبت آپ کے طفلانہ نظریہ کے۔آپ یہ کہتے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام۔آنحضور صلی للہ علیہ وسلم سے بہت پہلے پیدا ہوئے اور بہت پہلے منصب نبوت پر فائز کئے گئے اور بہت بعد میں فوت ہوں گے اور آخری نبی جسے منصب نبوت پر فائز اور فرائض نبوت انجام دیتے ہوئے دنیا دیکھے گی وہ حضرت عیسی علیہ السّلام ہوں گے۔اگر پہلے اور آخر کے صرف زبانی معنے کئے جائیں جیسا کہ آپ کو اصرار ہے تو پھر بھی نہ رہی شکل بنتی ہے اور اسے دنیا کا کوئی انسان تبدیل نہیں کر سکتا۔ہم یہ کہتے ہیں کہ یہ ضرت محمد صلی الہ علیہ وسلم کی شان میں صریح گستاخی ہے کہ پہلے تو یہ خیال کیا جائے کہ محض زمانہ کے لحاظ سے آخری ہونا اور محض زمانہ کے لحاظ سے اول ہونا باعث فضیلت ہے۔اور پھر یہ عقیدہ بھی رکھا جائے کہ منصب کے اعتبار سے بھی اور پیدائش کے اعتبار سے بھی دیگر تمام انبیاء آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے ہیں اور حضرت علی علیہ السلام کو تو نعوذ باشد دوہری فوقیت ہوگی۔پہلے آئے اور بعد میں مرے۔پہلے نبوت عطا ہوئی اور سب سے بعد میں نے دنیا میں نبوت کی وہ بھی وہی تھے۔یہی نہیں بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو اپنی اقامت ، امت محمدیہ کے ہی نبی تھے ، عیسی علیہ السلام کو عجیب اعز انہ لا کہ وہ امت موسوی کے بھی نبی تھے اور امت محمدیہ کے بھی نبی ہوں گے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ہم تو یہی عقیدہ رکھتے ہیں کہ صرف ایک آپ ہیں جو تمام جہانوں کے لئے نبی بنا کر بھیجے گئے اور اس عالمگیریت میں کوئی آپ کا دوسرا شریک نہیں سوائے اس کے کہ بحیثیت غلام امت کا ہر فرد آپ کی نمائندگی میںیہ عالمگیر پیام تمام دنیا تک پہنچانے کے منصب پر فائز ہے لیکن آنجناب کا یہ راسخ عقیدہ ہے کہ عیسی صرف اس معامہ میں آپ کے شریک ہی نہیں بلکہ دوہرا مرتبہ رکھتے ہیں۔رسولاً إلى بنی اسرائیل بھی آپ ہی ہیں اور رسولاً الی المسلمین