مقربان الہی کی سرخروئی — Page 17
تشہیر کی جائے۔امام صاحب بابی حال زار بازاروں اور گلیوں سے گزر رہے تھے اور زبان صداقت نشان باآواز بلند کہہ رہی تھی جو مجھ کو جانتا ہے وہ جانتا ہے جو نہیں جانتا وہ جان لے کہ یکیں مالک بن انس ہوں فتوی دیتا ہوں کہ طلاق جبری درست نہیں۔اس کے بعد اسی طرح خون آلود کپڑوں کے ساتھ مسجد نبوئی میں تشریف لائے اور دو رکعت نماز پڑھی اور لوگوں سے فرمایا کہ سعید ابن المسیب کو جب کوڑے مارے گئے تھے تو انہوں نے بھی مسجد میں آگر نماز پڑھی تھی۔یہ تعزیر کو تخمیر کے لئے تھی لیکن اس نے امام کی عزت و وقار کے پایہ کو اور بلند کر دیا۔یہ واقعہ ہم انجری کا ہے۔ا ا ا ا ا نه اربعہ مرتبہ مولانا سید رئیس احمد صاحب جعفری طبع اول شام کشمیری بازار لاہور (۵) حضرت امام شافعی (ولادت ۱۵ ہجری وفات ۲۰۴ ہجری ) ۱۲۹۴۰۲۹۳ آپ فن حدیث میں لکھتا اور فقہ میں لگا نہ تھے۔آپ کی کتاب الامیر اپنی مثال آپ ہے۔ایک عرصہ تک مصر کا سرکاری مذہب شافعی رہا۔روح کا فر گری کے نتیجہ میں آپ پر مصیبتوں اور تکلیفوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے لیکن آپ صبر و رضا کے پیکر بنے رہے اور کوہ وقار کی طرح اپنے مسلک پر قائم رہے۔سلوک کی راہ میں ہزار دُکھ سہے لیکن پیشانی پر شکن نہیں آئی۔لکھا ہے :۔ان کو اضر من ابلیس کہا گیا ، رفض کی طرف نسبت کر کے قید کیا اور ان کے مرنے کی دعائیں کیسی علماء عراق و مصر نے ایسی تہمتیں لگائیں کہ یمن سے دار السلام (بغداد) تک بے حرمتی و بے عزتی سے قید کر کے بھیجے گئے۔ہزاروں آدمی سلامت اور گالیاں دیتے جاتے تھے اور وہ ان میں سر جھکائے ہوئے تھے " (حر یہ تکفیر صفحه ۲۳ مطبوعه ۶ را پریل ۱۳۳ ) میری صدی ہجری (۱) حضرت امام بخاری " ( ولادت ۱۹۵ ہجری وفات ۲۵۶ ہجری )