مقربان الہی کی سرخروئی

by Other Authors

Page 10 of 47

مقربان الہی کی سرخروئی — Page 10

" دل پرنازل ہوتی ہیں اور ایک عجیب پیوند موٹی کریم سے ہوجاتا ہے۔خدائے تعالیٰ کے انوار اور الہام اُن کے دلوں پر اُترتے ہیں اور معارف اور نکات اُن کے مونہہ سے نکلتے ہیں ایک قومی تو تحل اُن کو عطا ہوتی ہے اور ایک محکم یقین اُن کو دیا جاتا ہے اور ایک لذیذ محبت الہی جو لذت وصال سے پرورش یا ب ہے اُن کے دلوں میں رکھی جاتی ہے۔اگر اُن کے وجودوں کو ہاون مصائب میں پیا جائے اور سخت شکنجوں میں دے کر نچوڑا جائے تو اُن کا عرق بجز حب الہی کے اور کچھ نہیں۔دنیا اُن سے ناواقف اور وہ دنیا سے دور تر و بلند تر ہیں۔خدا کے معاملات اُن سے خارق عادت ہیں انہیں پر ثابت ہوا ہے کہ خُدا ہے اُنہیں پر کھلا ہے کہ ایک ہے۔جب وہ دُعا کرتے ہیں تو وہ اُن کی سنتا ہے۔جب وہ پکارتے ہیں تو وہ اُن کو جواب دیتا ہے۔جب وہ پناہ چاہتے ہیں تو وہ اُنکی طرف دوڑتا ہے۔وہ باپوں سے زیادہ اُن سے پیار کرتا ہے اور ان کی در و دیوار پر برکتوں کی بارش برساتا ہے۔پس وہ اُس کی ظاہری و باطنی و روحانی وجسمانی تائیدی سے شناخت کئے بہاتے ہیں اور وہ تاریک میں ان میں ان کی مدد کرتا ہے کیونکہ وہ اُس کے اور وہ اُن کا ہے یا سر چشم آریہ، حاشیه ص ۲۴۲ بار سوم ] تصنیف حضرت باقی مسلسلہ عالیہ احمدیہ مر عن اسمه و جل شانہ کافر گری کی ذہنیت اور صلحائے امت نے امت مسلمہ کے صلحاء، اولیاء، ابدالی اقطاب اور محدثین و مجددین کے امتحان کا یہ پر حکمت انتظام جاری فرمایا کہ اگنی کی آزمائش کے لئے ابتدائے اسلام ہی سے ایک طبقہ میں کافرگیری کی ذہنیت پیدا کر دی۔اس ذہنیت نے ابتدائے اسلام سے آج تک خدا کا کوئی مقرب بندہ اور کوئی محبوب درگا ہ الھی ایسا نہیں چھوڑا ا 4۔