مقربان الہی کی سرخروئی

by Other Authors

Page 9 of 47

مقربان الہی کی سرخروئی — Page 9

ذاتی جوش میں آتی گئی ہاں آخر وہ ان تمام امتحانات سے اول درجہ کے پاس یافتہ ہو کر نکلے اور اپنے کامل صدق کی برکت سے پورے طور پر کامیاب ہو گئے اور عزت اور حرمت کا تاج اُن کے سر پر رکھا گیا اور تمام اعتراضات نادانوں کے ایسے حباب کی طرح معدوم ہو گئے کہ گویا وہ کچھ بھی نہیں تھے۔غرض انبیاء و اولیاء ابتلاء سے خالی نہیں ہوتے بلکہ سب سے بڑھ کر انہیں پر ابتلاء نازل ہوتے ہیں اور انہیں کی قوت ایمانی ان آزمائشوں کی برداشت بھی کرتی ہے عوام الناس جیسے خُدا تعالیٰ کو شناخت نہیں کر سکتے ویسے اُس کے خالص بندوں کی شناخت سے بھی قاصر ہیں بالخصوص آن محبوبان الہی کی آزمائش کے وقتوں میں تو عوام الناس بڑے بڑے دھوکوں میں پڑ جاتے ہیں گویا ڈوب ہی جاتے ہیں اور اتنا صبر نہیں کر سکتے کہ اُن کے انجام کے منتظر رہیں۔عوام کو معلوم نہیں کہ اللہ جل شانہ جس کو دے کو اپنے ہاتھ سے لگاتا ہے اُس کی شاخ تراشی اس مرض سے نہیں کرتا کہ اس کو نابود کر دیوے بلکہ اس غرض سے کرتا ہے کہ تا وہ پودہ پھول اور پھل زیادہ لاو سے اور اس کے برگ اور بار میں برکت ہو۔پیس خلاصہ کلام یہ کہ انبیاء اور اولیاء کی تربیت باطنی اور کمیل روحانی کے لئے ابتداء کا اُن پر وارد ہونا ضروریات سے ہے اور ابتلاء اس قوم کے لئے ایسا لازم حال ہے کہ گویا ان ربانی سپاہیوں کی ایک روحانی وردی ہے جس سے یہ شناخت کئے جاتے ہیں " سبز اشتهار صفحه التا ۱۳۴) حضرت اقدس علیہ السّلام نے ابتلاء کے اس فلسفہ پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے نہایت لطیف اور عارفانہ رنگ میں یہ بھی تحریر فرمایا ہے کہ :۔لاکھوں مقدسوں کا یہ تجربہ ہے کہ قرآن شریف کے اتباع سے برکاتِ الہی