مقربان الہی کی سرخروئی — Page 38
٣٨ جلد اول من بجواللہ تذکره از مولانا ابوالکلام آزاد مثا) دسویں صدی ہجری (۱) حضرت احمد بہاری رحمتہ اللہ علیہ یہ بزرگ بھی روح کا فرگری کی تار ہو گئے۔فیروز تخلق نے آپ کی تعلمیات کی بناء پر نذر تعالی آپ علمیات کی پر بموجب فتویٰ علمائے وہی شہید کر دیا۔۴۹۸ آپ کو ترا، مصنفہ شیخ محمد اکرام صاحب ص ۲۹ حاشیہ) (۲) حضرت صوفی با یزید سه عدی رحمتہ اللہ علیہ (ولادت ۹۳۲ هجری ، وفقا ۹۸۰ هجری) آپ کا شمار سرحد کے قدیم صوفیاء میں سے ہوتا ہے۔آپ جب اپنے اُصولوں کی تبلیغ کے لئے پہلی بار پیشاور تشریف لائے تو آپ کو گمراہ ، بے دین اور بے شرع قرار دیا گیا۔تذکرۂ صوفیائے سرحد ،ص۱۳۹ ، از اعجاز الحق قدوسی اجبارالحق قدوسی ناشر: مرکزی اُردو بورڈ لاہور۔گیارھویں صدہ کی ہجری (۱) حضرت محمد والف ثانی رحمۃ اللہ علیہ (ولادت ۹۷۱ ہجری ، وفات ۱۰۳۲ ہجری ) آپ گیارھویں صدی مچھری کے مجدد تھے جنہوں نے زبان و قلم سے بدعتوں کا قلع قمع کرنے کا مسلسل جہاد کیا۔آپ کے مکتوبات جو کلام و تصوف کے اسرارورموز کا قیمتی خزانہ ہیں اپنی مثال آپ ہیں۔حضرت مجدد کو اشاعت حق اور اعلائے کلمتہ اللہ کی راہ میں جن امتحانوں اور ابتلاؤں میں سے گزرنا پڑا ان میں نمایاں ترین ابتلاء اور امتحان یہ تھا کہ علمائے زمانہ نے جہانگیر کے دربار میں مخبری کی کہ سر پسند کا ایک مشائخ زادہ ایسے دعوے کرتا ہے جن سے گفر المازم آتا ہے۔ختر بیتہ الاصفیاء" میں تو یہ بھی لکھا ہے کہ بعض علماء نے آپ کے قتل کا فتوی بھی