مقربان الہی کی سرخروئی

by Other Authors

Page 37 of 47

مقربان الہی کی سرخروئی — Page 37

۳۷ چاہئیے۔اُس وقت کے مناسب حال اس سے بڑھ کر اور کوئی مشغلہ نہیں ہو سکتا تھا۔یہ فرقہ سید محمد جونپوری کی طرف منسوب ہے جن کی نسبت بیان کیا جاتا ہے کہ مہدی ہونے کے مدعی تھے یے " حضرت شاہ ولی الله کا قول شاہ عبدالعزیز صاحب نے ایک مکتوب میں تقبل کیا ہے کہ سید محمد عالم حق اور واصل باللہ تھے۔بعض خواطر و واردات ان پر ایسے گزرے ہیں کہ اُن کے درک و فہم میں درماندہ و عاجز رہ گئے اور خود اپنے مقام کی نسبت دھوکے میں پڑ گئے۔یہ بات نہ تھی کہ انہوں نے دانستہ غلط دعوی کیا۔حضرت مجد و صاحب اور مرزا مظہر جان جاناں سے بھی ایسا ہی منقول ہے۔علماء حق کا تو یہ حال تھا مگر علمائے دین نے اس جماعت کے استیصال پر کمر باندھی اور سید محمد کی نسبت اعتقاد مهدویہ و غیرہ کو بنیا دو تکفیر قرار دیا " تذكرة ما تا صا للخصا) (۳) حضرت شیخ علائی رحمۃ اللہ علیہ (شہادت ۱۹۵۵ ہجری) مہدوی طریقے کو بنگال کے مشہور عالم شیخ علائی کے ذریعہ بہت فروغ ہوا اور ہزاروں لوگوں نے اس فرقہ کے عقائد اختیار کرلئے۔مہدوی عقائد کے متعلق شرعی فیصلہ کرنے کے لئے علماء کی ایک مجلس منعقد کی گئی لیکن کوئی قطعی فیصلہ نہ ہو سکا۔اُس زمانے میں سلیم شا حکمران تھا اور اُس کے دربار میں مخدوم الملک ملا عبد الله سلطان پوری کو بڑا رسوخ حاصل تھا۔مخدوم الملک نے شیخ علائی کے قتل کا فتوی دیا اور پھر آپ کو کوڑے مروا کر شہید رود کوثر ۲ تا ۲ از شیخ محمد اکرام ایم اے صدتا طبع سوم، ناشر، فیروز سنز لاہور۔کرا دیا۔ام اہم اسے کم منتخب التواریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ مخدوم الملک نے حضرت شیخ علائی کے واجب القتل ہونے کے مقدمات کیوں ترتیب دئے ہیں :- این مبتدع دعولی محمد وقیت می کند و مهدی خود پادشاہ رُوئے زمین خواهد شد و چون سر خروج دارد واجب القتل است " منتخب التواريخ