مقربان الہی کی سرخروئی

by Other Authors

Page 25 of 47

مقربان الہی کی سرخروئی — Page 25

۲۵ سب سے بڑی سعادت سمجھتے تھے۔اُن پر طنز و تعریف کرتے تھے اور اُن کی تعلیمات پر شکوک و شبہات وارد کرتے تھے " ( انوار اولیاء" ص 19)۔آپ نے " منقول " نامی کتاب فقہ میں تصنیف فرمائی جس پر آپ کے زندیق و ملحد ہونے کا پراپیگنڈا شروع کر دیا گیا چنانچہ علامہ شبلی نعمانی اس کتاب کی طرف اشارہ کر کے فرماتے ہیں :۔امام صاحب کے مخالفین کے لئے یہ ایک محمدہ دستاویز تھی۔یہ لوگ سنجر کے دربار میں یہ کتاب لے کر پہنچے اور اس پر زیادہ آب و رنگ چڑھا کر پیش کیا۔اس کے ساتھ امام صاحب کی اور تصنیفات کے مطالب بھی الٹ پلٹ کر بیان گئے اور دعوی کیا کہ غزالی کے عقائد زندیقانہ اور ملحدانہ ہیں۔یے الغزالي مره مؤلقہ علامہ شبلی نعمانی ۵۶ ناشر ایم ثناء اللہ خال۔۲۶ ریلوے روڈ لاہور طبع دوم ۹۵ار تکفیر کی اس کارروائی کا پس منظر بقول جناب اعجاز الحق قدوسی یہ تھا کہ :۔امام غزالی کی شہرت ملکوں ملکوں پھیل رہی تھی۔اس آڑے وقت میں وہ اسلام کی جو خدمت انجام دے رہے تھے وہ بلاشبہ بہت اہم تھی لیکن دنیا کا دستور ہے کہ سیدھی راہ بتانے والوں اور نیک لوگوں کے کچھ نہ کچھ دشن ضرور پیدا ہو جاتے ہیں۔امام غزالی کے بھی کچھ دشمن پیدا ہو گئے یہ دشمن اُس وقت کے بناوٹی پیر اور دنیا وار عالم تھے جو نیکوں کی صورت بنا کو اپنا مطلب نکالنے کے لئے بڑی باتوں کو دین کا رنگ دے دیتے اور شاہانِ وقت امراء اور عام لوگوں کو خوش کرنے کے لئے طرح طرح کے ڈھونگ رچاتے ہیں۔امام غزالی نے ایسے بناوٹی پیروں اور دنیا دار مولویوں کے قریب کھے پردے چاک کر کے رکھ دیئے تھے۔اپنی کتابوں کے ذریعہ ان کے کرداروں