مقربان الہی کی سرخروئی — Page 24
(۳) حضرت ابو بکر شبلی رحمۃ اللہ علیہ (ولادت ۲۶۷ ہجری وفات ۳۶۴ ہجری) حضرت ابوبکر شبلی اہل تصوف کے امام اور علوم طریقت میں یگانہ اور لاثانی تھے۔ریاضات اور کرامات کے باب میں آپ شہرہ آفاق شخصیت تھے۔آپ کو جاہلوں اور عوام سے سخت اذیتیں ہیں، آپ پر کئی مرتبہ کفر کا فتوی لگایا گیا۔چنانچہ لکھا ہے :- وَشَهدُ وَا عَلَى الشَّبَلِي بِالْكُفْرِ مِرَارًا " اليواقيت الجواهر جلد اوّل حمر ) (۴) حضرت ابو عثمان مغربی رحمتہ اللہ علیہ (ولادت ۳۰۲ ہجری ، وفات ۳۷۳ ہجری ) آپ ارباب طریقت کے بزرگ ، اصحاب ریاضت کے برگزیدہ اذکر و فکر میں خانی اور علوم تصوف میں ماہر اور صاحب تصنیف تھے۔آپ کی نسبت بھی لکھا ہے :- ابو عثمان مغربی که علم و بزرگی نظیر خود نداشت از مکه او را بیرون نموده و به تهمت مطعون کرده بودند پانچویں صدی ہجری " نظم الدرر في سلك السير" مثلا مؤلفه علامه دهر وفتنامه عصر المعتصم با بالله ملا صفی ال مطبوع مطبع فاروقی دہلی ۱۲۹ھ ) (۱) حجۃ الاسلام حضرت امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ (ولادت ۲۵۰ ہجری وفات ۵۰۵ پیری آپ کی شخصیت اسلامی دنیا میں مختارج تعارف نہیں " احیاء العلوم“، “کیمیائے سعادت“ اور دیگر بے شمار علمی تالیف آپ کی یاد گار اور امت مسلمہ کے لئے سرمایہ افتخار ہیں۔جہاں تک رُوح کا فر گری کا تعلق ہے آپ بھی اس کی زد سے بچ نہیں سکے۔مولانا رئیس احمد جعفری کے الفاظ میں یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ :۔" بہت سے فقہاء اور اصحاب ظواہر اور ارباب کلام تھے جو اُن سے نفرت کرتے تھے۔اُن کا عنادا اپنے دل میں پوشیدہ رکھتے تھے۔ان کی مخالفت کو