مقربان الہی کی سرخروئی

by Other Authors

Page 20 of 47

مقربان الہی کی سرخروئی — Page 20

چنانچہ مولانا سید رییس احمد صاحب جعفری لکھتے ہیں :۔ور دین نبوی کا قیام ایک عظیم الشان قربانی کا طلب گار تھا۔وہ صرف امام احمد بن حنبل رحمتہ اللہ علیہ کی ذاتِ گرامی تھی جس کو سلطان عہد ہونے کا شرف حاصل ہوا۔انہوں نے نہ تو بادشاہوں کے سامنے سر جھکایا اور نہ دنیا کے طلب گار علماء کی جانب انتفات فرمایا بلکہ خالص دین کے قیام کے راستہ میں اپنے وجود کو قربان کہ دینے اور تمام خلف اُمت کے لئے ثبات و استقامت علی السنتہ و الحق کا راستہ کھول دینے کے لئے حسب الحکم فاصبر كما صبرا ولو العزم من الرسل اُٹھ کھڑے ہوئے مقابلہ کیا۔وہ قید ہوئے۔بچار چار بو جھل بیڑیاں پہنائی گئیں۔پہن لیں۔اسی حالت سے بغداد سے طرطوس لے بجائے گئے۔بوجھل بیڑیوں کی وجہ سے ہلنا دشوار تھا بلین رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں جھوم کے پیاسے روزہ ار کو تپتی ہوئی دھوپ میں بٹھایا گیا اور اس مقدس بیٹھ پر جو علوم و معارف نبوة کی حامل تھی پوری قوت سے کوڑے مارے گئے۔ہر جلا د پوری قوت سے کوڑے لگا کر جب تھک جاتا تھا تو تازہ دم جلاد آکر پیٹنے لگتا۔تازیانے کی ہر مضرب پر جو صدا زبان سے نکلتی تھی وہ یہ تو جزع و فزع کی تھی نہ مشور و فغاں کی بلکہ وہی صدا تھی جس کی بدولت یہ سب کچھ ہو رہا تھا یعنی القرآن كلام الله غیر مخلوقٍ امام صاحب خود فرماتے ہیں کہ روزہ کی حالت میں مجھے اس قدر مارا گیا کہ جسم خون سے رنگین ہو گیا اور میں بہوش ہو گیا۔" اسیرۃ ائمہ اربعہ مرتبہ سید رئیس احمدرضا جعفری صلا تا مثل) (۷) حضرت امام نسائی (ولادت ۲۱۵ ہجری وفات ۳۰۳ ہجری) 410 تیسری صدی ہجری کے بلند پایہ محدث اور سنن نسائی کے مؤلف۔حضرت امام نسائی کرنے جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مناقب بیان کئے تو غالیوں نے نہ صرف مارا بلکہ ان پر شیع کا الزام بھی لگایا۔حضرت شاہ عبد العزیز اسی واقعہ کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں :۔لوگ ان پر ٹوٹ پڑے اور شیعہ شیعہ کہ کر مایہ نا پیٹنا شروع "