مقربان الہی کی سرخروئی

by Other Authors

Page 19 of 47

مقربان الہی کی سرخروئی — Page 19

14 واخرجوا سهل بن عبد الله التسترى من بلدة الى البصرة ونسبوه الى قبائح وكفّروه مع امامته وجلالته (۴) حضرت احمد راوندی (ولادت ۲۰۵ هجری وفات ۲۹۸ ہجری ) علامہ محمد رضا تھا کہ لکھتے ہیں :- " احمد بن يحيى بن اسحاق البغدادي المعروف بالراوندي رابو الحسين ) عالم متكلّم وصف بالالحاد والكفر والزندقة (معجم المؤلفين جلد اول ما ) حضرت احمد بن یحیی بن اسحاق بغدادی المعروف را وندی (ابو الحسین ) عالم و سلم تھے۔آپ پر الحاد، نفر اور زندقہ کا الزام لگایا گیا۔(۵) حضرت ابوسعید خراز" روفات ۲۸۵ ہجری) حضرت شیخ فرید الدین عطار فرماتے ہیں کہ آپ بغداد کے رہنے والے تھے۔طریقت میں مجتہد تھے سب سے پہلے آپ ہی نے بقار و فنا کی کیفیت کی بابت بیان کیا اور اپنے طریقے کو عبارت میں لکھا۔آپ کی کتاب کتاب النترا نهایت دقیق روحانی مباحث پرمشتمل تھی جس کے معنے علماء ظواہر سمجھنے سے قاصر رہے اور آپ پر کفر کا فتو ی لگا دیا۔فتوی تذكرة الاولياء با اليضًا اليواقيت والجواهر جلد اوّل صدا (۶) حضرت امام احمد بن حنبل" (ونادت ۱۶۴ هجری وفات ۲۴۱ آجری ) حضرت امام احمد بن حبیل بد کا علمی مقام تیسری صدی کے علمائے ربانی میں نہایت بلند ہے ، حضرت امام شافعی کے نزدیک آپ حدیث ، فقہ، لغت، قرآن ، فقر، زہد، درع اور سنت میں امام تھے۔(طبقات الحنابلہ نا بن ابی لیلی) اس امام تمام کی آزمائش بھی تکفیر کے ابتلا سے کی گئی مگر آپ اس امتحان میں پوری طرح کامیاب نکلے اور حق و صداقت کی آواز اپنی زندگی کے آخری سانس تک بلند کرتے رہے۔