مقربان الہی کی سرخروئی — Page 12
۱۲ پ صبرو رضا اور توکل و استقلال کے روحانی مدارج میں بڑھتے پہلے گئے اور عشیق الہی کی اُس شمع کو ہمیشہ فروزاں رکھا جو حضرت خاتم الانبیاء محمدمصطفے صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے قلب مطہر میں روشن کر دی تھی جیسا کہ لکھا ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو بعض معاصری کافر کہا کرتے تھے۔(ہفت روزہ خورشید سندیله ۲۵ فروری ۱۹۳۸ء حت کالم م) (۲) سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام (ولادت شده وفات ) حضرت رسول مقبول صلے اللہ علیہ وسلم کے نواسے اور حضرت فاطمتہ الزہر کے جگر گوشہ تھے جنہیں حضور کی زبان فیض ترجمان سے اہلِ جنت کا سردار قرار دیا گیا۔آپ اہل بیت نبوی کے پہلے درخشندہ گوہر ہیں جنہیں زمع دیگر افراد خاندان کے) کارگری کا نشانہ بن کر جام شہادت نوش کرنا پڑا۔چنانچہ افضل الاعمال فی جواب نتائج الاعمال ص ۲۲ میں لکھا ہے :۔یزید پلید نے بوجہ حضرت امام حسین کے انکار اطاعت کے علماء سے قتل کا فتوئی طلب کیا علماء نے آجکل کے علماء کی طرح شقاوت از لی اور طمع نفسانی سے قتل کا فتوی دیا تو موجب فتو کی علماء کے یزید پلید نے حضرت امام حسین علیہ السلام کو مت آل و اولاد بھوکا پیاسا دشت کربلا میں شہید کر دیا ہے آقائی ساجی مرزا احسن صاحب اپنی کتاب جواہر الکلام میں لکھتے ہیں۔حضرت علی " پر خارجیوں نے گھر کا فتوی صادر کیا تھا لیکن حضرت سید الشہداء کو یہ شرف حاصل ہے کہ اُن کے قتل کے محضر سپہ دربار بنی امیہ کے ایک سو قاضیوں اور مفتیوں کی مہریں لگی تھیں اور سرفہرست قاضی شریح کا نام تھا۔کہتے ہیں کہ بھر ے کے گورنہ ابن زیاد نے قاضی شریح کو دربار میں طلب کیا اور اُس سے کہا کہ آپ حسین ابن علی کے قتل کا فتویٰ صادر کریں قاضی شریح نے انکار کیا اور اپنا قلمدان اپنے سر پر دے مارا۔۔۔اور اُٹھ کر اپنے گھر چلا گیا۔جب رات ہوئی تو ابن زیاد نے چند تھیلیاں زر کی اس کے لئے بھیج دیں صبح ہوئی شریح ابن زیاد کے پاس آیا تو ابن زیاد نے پھر وہی گفت گو شروع کی قاضی شریح نے کہا کہ کل رات میں نے قتل حسین پر بہت غور کیا اور اب اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ راه بحوالہ موریہ تکثیر ما مطبوعہ 4 اپریل ۱۹۳۳ء ہے