مقربان الہی کی سرخروئی — Page 11
جس ہو کا فر سازی کے تیر نہ چلائے گئے ہوں۔سے ناوک نے تیرے صید نہ چھوڑا زمانے میں نتر پے ہے مری قبلہ نما آشیانے میں رورح تکفیر نے اسلام کی بہت سی بلند پایہ اور مایہ ناز شخصیتوں اور برگزید ہستیوں کا خون بہایا متعدد ممتاز اور نامور اسلامی منفکری، مفسر، محدث، محد و متکلم، حکماء اور اصفیاء اس ناپاک روح کی چیرہ دسینیوں کا شکار ہوئے اور کئی ایسے خدا نما وجود جو اپنے زمانہ میں روشنی کا مینار، اُسوہ محمدی کی تصویر اور اسلام کا چلتا پھرتا نمونہ تھے کافروں، محمدول ، زندیقوں اور مرتدوں کے زمرہ میں نہایت بے دردی سے شامل کر دئیے گئے۔روح کا فرگری کا پیدا کردہ یہ امتحان نہایت کٹھن ، صبر آزما ، زہرہ گداز اور روح و قلب کو تڑپا دینے والا امتحان تھا مگر خدا کے پیارے اور حضرت نا تم الانبیاء محمدمصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ عشاق کس طرح اپنے اخلاص میں اول درجہ کے ثابت قدم نکلے اور نہایت با مشت استقلال اور مسکراتے ہوئے چہروں سے اس امتحان میں کامیاب و کامرانی ہوئے اور پھر خدا تعالیٰ کی گھر توں اور قبولیتوں نے اُن کے سروں پر فتح و ظفر کے تاج پہنا دیے اور ان کے پیش کردہ عقائد و نظریات کو قبول عام کی سند عطا فرمائی ؟؟ یہ ہے تاریخ اسلام کا بظاہر درد ناک مگر نہایت ایمان افروز پہلو جس پر آئندہ اوراق میں روشنی ڈالی گئی ہے۔پہلی صدی ہجری (۱) حضرت عبداللہ بن عباس (ولادت سے قبل ہجرت۔وفات سنہ ہجری ) پہلی صدی ہجری کے ممتاز اور متبحر عالم ربانی اور نہایت جلیل القدر صحابی تھے جن کو اسحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ترجمان القرآن کا قابل فخر خطاب عطا فرمایا ( الاستيعاب في معرفت الامتنا جلد ۳۸ اسلامی لٹریچر سے ثابت ہے کہ آپ بھی اپنی زندگی میں کافر گری کی ذہنیت کا شکار ہوئے