مقدس ورثہ، چشمہٴ زمزم، اصحاب فیل

by Other Authors

Page 9 of 57

مقدس ورثہ، چشمہٴ زمزم، اصحاب فیل — Page 9

قربانیاں دیتے رہے تھے۔خدا اور اس کی عظمت ، اس کی قدرت ، اس کی محبت اور پیار سے واقف تھے۔مگر بچہ تو ابھی چھوٹا تھا۔وہ کیا جانے کہ یہ سب کیا ہے مگر ایسا نہیں۔اس بچہ کو خدا کی محبت ورثہ میں ملی تھی۔اس میں قربانی کرنے کا جذبہ خدا کی خاطر اپنی ماں اور اپنے باپ سے آیا تھا۔وہ چھوٹا ہونے کے باوجود جانتا تھا کہ خدا کے حضور سب کچھ قربان کر دینا ہی بڑی نیکی اور سعادت ہے۔بس اُس نے ایسا ہی کیا۔لیکن بچو! خدا کبھی اپنے پیاروں کو بھولتا نہیں۔بلکہ ان کی نشانیوں کو ان کی قربانیوں کو جو اس کی خاطر کی جائیں، زندہ رکھتا ہے۔بعد میں آنے والے انسانوں کے لئے نمونہ کے طور پر۔کہ اے میرے بندو! میرے ایسے پیارے بھی گزرے ہیں۔لیکن میں نے ان کو ضائع نہیں کیا۔بلکہ پہلے سے بھی زیادہ ان سے پیار کیا پہلے سے زیادہ ان پر انعامات کی بارش کی۔ان کے درجات کو بڑھایا اور اپنے پیاروں میں شامل کر لیا۔تو بچو! خدا اپنے قول میں اپنے وعدے میں بڑا سچا ہے۔اس نے حضرت اسمعیل علیہ السلام کی قربانی کو حقیقی رنگ میں آج بھی زندہ رکھا ہے۔حج کے بعد عید الاضحی کے دن لاکھوں کروڑوں جانور اسی قربانی کی یاد میں قربان کئے جاتے ہیں۔ہر مسجد، ہر عیدگاہ سے حضرت اسمعیل علیہ السلام کی قربانی کا ذکر ہوتا ہے ہرایک جانتا ہے کہ یہ جانور کیوں قربان ہورہے ہیں۔اس بات پر غور کرو! کہ جانور قربان کرنا یا بیٹے پر چھری چلا دینا تو کوئی مقصد نہیں۔تو پھر یہ کیا تھا؟ یہ بات اس چیز کی وضاحت کرتی ہے کہ خدا کے منصوبے عظیم الشان ہوتے ہیں۔اس قربانی کا حقیقی مقصد خدا کی راہ میں اسمعیل کو وقف کر دینا تھا۔کیونکہ جو انسان خدا کے لئے وقف ہو جاتا ہے۔اس پر بظاہر دنیا