مقدس ورثہ، چشمہٴ زمزم، اصحاب فیل — Page 8
8 اب قربان کرنا چاہتے ہیں مگر اس فرمانبردار اور نیک فطرت بچے نے کمال فدائیت سے جواب دیا۔کہ آپ اپنا خواب پورا کریں۔پھر کیا ہوا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام اُن کو لے کر ان پہاڑیوں کے درمیان پہنچے۔جہاں حضرت ہاجرہ پانی کی تلاش میں تیرہ (13) سال پہلے پریشان ہوئی تھیں۔ان پہاڑیوں میں مروہ کی پہاڑی پر بیٹے کو لٹایا۔ایک روایت ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام منی سے گزر رہے تھے تو تین (3) مقامات پر آپ کو شیطان نظر آیا جو آپ کو اس قربانی سے روکنا چاہتا تھا اور آپ ہر بار بیٹے کا ہاتھ پکڑے اس پر کنکریاں مارتے تو وہ غائب ہو جاتا اور آپ چل پڑتے۔یہ تینوں مقامات جن کو جمرات کہتے ہیں۔منی کے میدان میں ہیں۔اور آج بھی حاجی ان مقامات پر سات سات کنکریاں مارتے ہیں۔جب حضرت ابراہیم علیہ السلام حضرت اسمعیل علیہ السلام کو لے کر مروہ کی پہاڑی پر پہنچے تو آپ نے ان کو زمین پر لٹا دیا۔اور اس خدا کے پرستار بچے نے بڑی خوشی اور خاموشی سے خود کو ذبح ہونے کے لئے پیش کر دیا۔ابھی آپ چھری پھیرنے ہی والے تھے کہ فرشتہ کی آواز آئی۔بیشک آپ نے اپنا خواب سچا کر دکھایا اور خدا کے نزدیک صادق ٹھہرے“۔حضرت ابراہیم علیہ السلام ادھر اُدھر دیکھنے لگے کہ کیسی آواز ہے۔ابھی میں نے قربانی تو دی نہیں۔خواب کیسے پورا ہوا۔تو اُسی فرشتہ نے کہا کہ ایک مینڈھے کو اسمعیل (علیہ السلام) کی جگہ یعنی اُن کے بدلے قربان کر دیں“۔تو بچو! حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسمعیل علیہ السلام کے بدلے اس جانور کو قربان کر دیا۔کتنی عجیب بات ہے کہ باپ تو بہر حال خدا کے نبی تھی۔وہ خدا کی خاطر