مقدس ورثہ، چشمہٴ زمزم، اصحاب فیل

by Other Authors

Page 24 of 57

مقدس ورثہ، چشمہٴ زمزم، اصحاب فیل — Page 24

24 ا مطابق بناتا ہے۔بالکل اسی طرح خدا نے یہ چشمہ دراصل اپنے پیارے کے نشان کے طور پر نکالا۔آج یہ زمین پیاسی ہے میں اس کو سیراب کرتا ہوں۔کل جب یہ آباد ہو گی۔اور اس پر بسنے والے روحانی طور پر پیاس کی شدت سے تڑپ رہے ہوں گے۔ان کے اخلاق اور کردار بگڑنے کی وجہ سے بے سُدھ ہوں گے لے۔اس وقت میں اسی سرزمین میں اس چشمہ کی طرح ایک روحانی چشمہ جاری کروں گا جس کا پانی کبھی خشک نہیں ہو گا۔اور جو بھی اس کو پیے گا۔ہمیشہ کی زندگی پا جائے گا اور وہ چشمہ چشمہ محمدی ہو گا۔میرے محبوب کے فیض کا چشمہ۔گویا یہ چشمہ زمزم میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کے اظہار کے لئے آپ کی خاطر آپ کے آباء واجداد کو دیا گیا۔میں آپ کو بتا رہی تھی کہ حضرت ہاجر کا چشمہ کے پاس بیٹھی تھیں۔کھانا تو ختم ہو چکا تھا مگر ان کو پورا یقین تھا کہ جس طرح خدا نے پانی کا انتظام کیا ہے وہ کھانے کا بھی کرے گا۔تو ہوا یوں کہ ایک قبیلہ یمن سے شام کی طرف جا رہا تھا۔وہ راستہ بھول گیا۔اور مکہ کے قریب پڑاؤ ڈالے پڑا تھا۔اس کے پاس بھی پانی ختم ہو رہا تھا۔کیونکہ سفر میں آخر کتنا پانی لے کر چلا جا سکتا ہے۔پھر اس قبیلہ کے اونٹ گم ہو گئے۔اور دو جوان ان کو تلاش کرتے کرتے حضرت ہاجرہ کے پاس پہنچ گئے۔وہاں اکیلی عورت کو ایک بچے کے ساتھ چشمہ پر بیٹھا دیکھ کر حیران ہو گئے۔اور جلدی ہی اپنے قبیلہ کے سردار مضاض بن عمر و جرہمی کے پاس گئے اور سارا ماجرا بیان کیا۔پانی کے اچانک مل جانے پر سارے قبیلہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔اور انہوں نے وہاں سے کوچ کیا۔جب حضرت ہاجرہ کے 1 کیونکہ پیاس سے انسان فوراً مر نہیں جاتا۔بلکہ بے سُدھ ہو جاتا ہے۔پھر جب بہت دیر تک اس کو پانی نہ ملے پھر مرتا ہے۔