مقدس ورثہ، چشمہٴ زمزم، اصحاب فیل

by Other Authors

Page 7 of 57

مقدس ورثہ، چشمہٴ زمزم، اصحاب فیل — Page 7

7 خواب نے اس راز کو کھول دیا کہ یہ خدائی آواز ہے۔پھر تیسرے دن وہی خواب دیکھا جس سے آپ نے پکا ارادہ کر لیا کہ میں اپنے خدا پر ضرور اپنی سب سے پیاری چیز یعنی اسمعیل کو قربان کر دوں گا۔اپنی اولا د کو اپنے ہاتھ سے قربان کرنا بہت مشکل کام ہے۔مگر حضرت ابراہیم علیہ السلام تو پہلے بھی خدا کی رضا کی خاطر اس پیارے بیٹے کو جب یہ ابھی بہت چھوٹے تھے ان کی ماں کے ساتھ ایک غیر آباد جگہ جہاں آج مکہ آباد ہے چھوڑ آئے تھے۔ایک بار قربانی تو دی تھی اپنی محبت کی، بیوی کی محبت کی ، بچے کی محبت کی۔مگر وہ خدا کے پیارے اور اس سے پیار کرنے والے تھے۔ان کیلئے یہ سب کچھ کر گزرنا ممکن تھا۔پھر کیا ہوا حضرت ابراہیم علیہ السلام فوراً مکہ جانے کے لئے تیار ہوئے ایک لمبے سفر کے بعد جب اپنے بیٹے کے پاس پہنچے تو ان کو دیکھ کر بہت اداس ہوئے اب وہ تیرہ (13) سال کے لڑکے تھے۔بہت دنوں بعد ملاقات ہوئی تھی۔اور آنے کا مقصد بھی بہت مشکل اور صبر آزما تھا ان باتوں نے قدرتی طور پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اُداس کر دیا۔مگر وہ اپنے عہد کے پکے تھے۔بیٹے کو دیکھ کر اس کی محبت کے جوش میں وہ اس قربانی کو بھولے نہیں۔بلکہ انہوں نے حضرت اسمعیل علیہ السلام کو بلایا۔ان سے سارا ماجرا بیان کیا۔جانتے ہو حضرت اسمعیل علیہ السلام نے کیا جواب دیا۔انہوں نے کہا کہ ”جس کام کا آپ کو حکم دیا گیا ہے اسے پورا کیجئے انشاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گئے۔(الصفث : 103) دیکھا بچو! کتنی حیرت کی بات ہے کہ اگر کوئی اور بچہ ہوتا تو خوفزدہ ہو جاتا یا بھاگ جاتا یا پھر باپ پر ناراض ہوتا کہ پہلے مجھے اس ویرانے میں چھوڑا اور 1 سیرت خاتم النبیین صفحه 73 از حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد