مقدس ورثہ، چشمہٴ زمزم، اصحاب فیل

by Other Authors

Page 23 of 57

مقدس ورثہ، چشمہٴ زمزم، اصحاب فیل — Page 23

23 حدیث میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خدا ہاجرہ پر رحم کرے۔اگر وہ پانی کو نہ روکتیں تو یہ بہنے والا چشمہ بن جاتائے۔تو بچو! یہ چشمہ جو خاص اللہ تعالیٰ کی محبت اس کی شفقت کی وجہ سے پھوٹا آج بھی دنیا کو ایک پیغام دیتا ہے۔کہ اے انسانو! مجھے دیکھو میں ایک نشان ہوں۔ان لوگوں کے لئے جو خدا اور اس کی قدرت کو نہیں جانتے۔آؤ میرے میٹھے اور ٹھنڈے پانی سے ان تپتے ہوئے صحراؤں میں اپنی پیاس کو بجھاؤ۔یقیناً تمہاری روح بھی سیراب ہوگی۔بچو! یہ چشمہ انسانوں کو حیرت میں ڈال دیتا ہے کہ خدا کی قدرت، صحرا میں تو پانی ہوتا ہی نہیں۔اگر ہو تو زمین اس کو فوراً جذب کر لیتی ہے اور کہاں ریتلی زمین کہ اس نے اپنے سینے کو پھاڑ کر پانی اُگل دیا۔ہے نا عجیب بات۔ایسی ہی غیر معمولی اور ناممکن باتوں کو معجزہ کہتے ہیں۔یہ معجزہ ویسے تو حضرت ہاجرہ اور حضرت اسمعیل علیہ السلام کے حق میں ظاہر ہوا۔مگر بچو! ان کو یہاں آباد کرنے کا مقصد کیا تھا۔کیوں بُلایا اس ویرانے میں؟ اس کی وجہ میں بتاتی ہوں کہ خدا نے اس جگہ اپنے سب سے پیارے شہزادے کو پیدا کرنا تھا۔اور خدا نے اپنے اس محبوب کو ایسی اُجاڑ بے آب و گیاہ جگہ تو نہیں پیدا کرنا تھا۔اس نے فیصلہ کیا کہ پہلے یہ جگہ آباد ہو۔اس لئے حضرت ہاجرہ کو حضرت اسمعیل علیہ السلام کے ساتھ یہاں بلایا اور پانی نکالا۔یہ بات بالکل ایسے ہی ہے کہ جب کوئی انسان چھوٹے سے چھوٹا کام کرنا چاہتا ہے تو پہلے اس کی منصوبہ بندی (PLANNING) کرتا ہے۔اور جتنا بڑا کام ہو۔منصو بہ اُسی کے 1 سیرت خاتم النبین جلد اوّل صفحہ 83