منتخب تحریرات — Page 38
6rno فرشتے قرآن شریف پر بدیدہ تعمق غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان بلکہ جمیع کا ئنات الارض کی تربیت ظاہری و باطنی کے لئے بعض وسائط کا ہونا ضروری ہے اور بعض بعض اشارات قرآنیہ سے نہایت صفائی سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض وہ نفوس طیبہ جو ملائک سے موسوم ہیں اُن کے تعلقات طبقات سماویہ سے الگ الگ ہیں۔بعض اپنی تاثیرات خاصہ سے ہوا کے چلانے والے اور بعض مینہ کے برسانے والے اور بعض بعض اور تا ثیرات کو زمین پر اتارنے والے ہیں۔(روحانی خزائن جلد ۳ توضیح مرام صفحه ۷۰) یہ بھی یا درکھنا چاہیئے کہ اسلامی شریعت کی رو سے خواص ملائک کا درجہ خواص بشر سے کچھ زیادہ نہیں بلکہ خواص الناس خواص الملائک سے افضل ہیں اور نظام جسمانی یا نظام روحانی میں اُن کا وسائط قرار پانا اُن کی افضلیت پر دلالت نہیں کرتا بلکہ قرآن شریف کی ہدایت کے رو سے وہ خدّام کی طرح اس کام میں لگائے گئے ہیں۔(روحانی خزائن جلد ۳ توضیح مرام صفحه ۷۴ ) فرشتوں کا انتر نا کیا معنی رکھتا ہے۔سو واضح ہو کہ عادت اللہ اس طرح پر جاری ہے کہ جب کوئی رسول یا نبی یا محدت اصلاح خلق اللہ کے لئے آسمان سے اترتا ہے تو ضرور اس کے ساتھ اور اس کے ہمرکاب ایسے فرشتے اُتر ا کرتے ہیں کہ جو مستعد دلوں میں ہدایت ڈالتے ہیں اور نیکی کی رغبت دلاتے ہیں اور برابر اترتے رہتے ہیں جب تک کفر و ضلالت کی ظلمت دُور ہو کر ایمان اور راستبازی کی صبح صادق نمودار ہو جیسا کہ اللہ جلشانہ فرماتا ہے تَنَزَّلُ الْمَلَيكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِمْ ۚ مِنْ كُلِّ أَمْرٍ سَلَمُ هِيَ حَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ۔سو ملائکہ اور روح القدس کا تنزل یعنی آسمان سے اُترنا اُسی