منتخب تحریرات — Page 17
آدمی بولتا ہے مگر یہ آواز نہایت لذیذ اور شگفتہ اور کسی قدر سُرعت کے ساتھ ہوتی ہے اور دل کو اس سے ایک لذت پہنچتی ہے۔انسان کسی قدر استغراق میں ہوتا ہے کہ یک دفعہ یہ آواز آجاتی ہے اور آواز سُن کر وہ حیران رہ جاتا ہے کہ کہاں سے یہ آواز آئی اور کس نے مجھ سے کلام کی اور حیرت زدہ کی طرح آگے پیچھے دیکھتا ہے پھر سمجھ جاتا ہے کہ کسی فرشتہ نے یہ آواز دی۔اور یہ آواز خارجی اکثر اس حالت میں بطور بشارت آتی ہے کہ جب انسان کسی معاملے میں نہایت متفکر اور مغموم ہوتا ہے۔(روحانی خزائن جلد ابراہین احمدیہ حاشیه در حاشیه صفحه ۲۸۷) یہی قانون ہے کہ جس کے پاس کچھ نور ہے اسی کو اور نور بھی دیا جاتا ہے اور جس کے پاس کچھ نہیں اُس کو کچھ نہیں دیا جاتا۔جو شخص آنکھوں کا نور رکھتا ہے وہی آفتاب کا نور پاتا ہے اور جس کے پاس آنکھوں کا نور نہیں وہ آفتاب کے نور سے بھی بے بہرہ رہتا ہے اور جس کو فطرتی نور کم ملا ہے اس کو دوسرا نور بھی کم ہی ملتا ہے اور جس کو فطرتی نور زیادہ ملا ہے اس کو دوسرا نور بھی زیادہ ہی ملتا ہے۔روحانی خزائن جلد ا براہین احمدیہ حاشیه صفحه ۱۹۵-۱۹۶) خدائے تعالیٰ نے اپنے عجیب عالم کو تین حصہ پر منقسم کر رکھا ہے۔(۱) عالم ظاہر جو آنکھوں اور کانوں اور دیگر حواس ظاہری کے ذریعہ اور آلات خارجی کے توسل سے محسوس ہوسکتا ہے۔(۲) عالم باطن جو عقل اور قیاس کے ذریعہ سے سمجھ میں آسکتا ہے۔(۳) عالم باطن در باطن جو ایسا نازک اور لائیڈرک و فوق الخیالات عالم ہے جو تھوڑے ہیں جو اس سے خبر رکھتے ہیں۔وہ عالم غیب محض ہے جس تک پہنچنے کے لئے عقلوں کو طاقت نہیں دی گئی مگر ظر محض۔اور اس عالم پر کشف اور وحی اور الہام کے ذریعہ سے اطلاع ملتی ہے اور نہ اور کسی ذریعہ سے اور جیسی عادت اللہ بدیہی طور پر ثابت اور متحقق ہے کہ اس نے ان دو پہلے عالموں کے در فیات کرنے کے لئے جن کا اوپر ذکر ہو چکا ہے انسان کو طرح طرح کے حواس و