منتخب تحریرات — Page 16
۱۶ وحی والہام جب خدائے تعالیٰ اپنے بندہ کو کسی امر غیبی پر بعد دعا اس بندہ کے یا خود بخود مطلع کرنا چاہتا ہے تو یک دفعہ ایک بیہوشی اور ر بودگی اس پر طاری کر دیتا ہے جس سے وہ بالکل اپنی ہستی سے کھویا جاتا ہے اور ایسا اس بے خودی اور ر بودگی اور بیہوشی میں ڈوبتا ہے جیسے کوئی پانی میں غوطہ مارتا ہے اور نیچے پانی کے چلا جاتا ہے۔غرض جب بندہ اس حالت ربودگی سے کہ جو غوطہ سے بہت ہی مشابہ ہے باہر آتا ہے تو اپنے اندر میں کچھ ایسا مشاہدہ کرتا ہے جیسے ایک گونج پڑی ہوئی ہوتی ہے اور جب وہ گونج کچھ فرو ہوتی ہے تو نا گہاں اس کو اپنے اندر سے ایک موزوں اور لطیف اور لذیز کلام محسوس ہو جاتی ہے اور یہ غوطہ ربودگی کا ایک نہایت عجیب امر ہے جس کے عجائبات بیان کرنے کیلئے الفاظ کفایت نہیں کرتے۔یہی حالت ہے جس سے ایک دریا معرفت کا انسان پر کھل جاتا ہے کیونکہ جب بار بار دعا کرنے کے وقت خدا وند تعالیٰ اس حالت غوطہ اور ربودگی کو اپنے بندہ پر وارد کر کے اس کی ہر یک دعا کا اس کو ایک لطیف اور لذیذ کلام میں جواب دیتا ہے۔اور ہر ایک استفسار کی حالت میں وہ حقائق اس پر کھولتا ہے جن کا کھلنا انسان کی طاقت سے باہر ہے۔تو یہ امر اس کے لئے موجب مزید معرفت اور باعث عرفانِ کامل ہو جاتا ہے۔بندہ کا دعا کرنا اور خدا کا اپنی الوہیت کی تحیلی سے ہر یک دعا کا جواب دینا یہ ایک ایسا امر ہے کہ گویا اسی عالم میں بندہ اپنے خدا کو دیکھ لیتا ہے اور دونوں عالم اس کے لئے بلا تفاوت یکساں ہو جاتے ہیں۔(روحانی خزائن جلد ابراہین احمدیہ حاشیه در حاشیہ نمبر اصفحه ۲۶۰ تا ۲۶۲) صورت پنجم الہام کی وہ ہے جس کا انسان کے قلب سے کچھ تعلق نہیں بلکہ ایک خارج سی آواز آتی ہے اور یہ آواز ایسی معلوم ہوتی ہے جیسے ایک پردہ کے پیچھے سے کوئی