مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام

by Other Authors

Page 253 of 439

مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 253

۲۵۳ ڈپٹی کمشنر کے پاس بھیجا۔ڈپٹی کمشنر وفد کو دیکھتے ہی سخت طیش میں آ گیا اور بہت سی دھمکیاں دے کر وفد کو واپس جانے کو کہا۔ضلع کے سب سے بڑے حاکم کے اس نارواسلوک کے بعد مرزا غلام احمد صاحب کے لئے ایک ہی صورت باقی تھی کہ دیوانی عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا جائے۔مرزا غلام احمد صاحب کی تمام زندگی کا یہ پہلا اور آخری مقدمہ تھا۔جو آ نے بحیثیت مدعی کسی کے خلاف دائر کیا۔وہ بھی طوعاً کرہا اس لئے آپ نے کیا کہ ڈپٹی کمشنر نے معاملے کو باہمی افہام و تفہیم سے طے کرانے کی طرف توجہ نہ دی اور آپ کو خود اس لئے یہ مقدمہ دائر کرنا پڑا کیونکہ متنازعہ راستہ مرزا غلام احمد صاحب کے خاندان کا پرائیویٹ راستہ تھا اس لئے کوئی اور اس مقدمہ کو دائر نہ کر سکتا تھا چنانچہ مرزا غلام احمد صاحب کی طرف سے مرزا امام الدین صاحب کے خلاف ضلع گورداسپور کے ڈسٹرکٹ حج منشی خدا بخش کی عدالت میں یہ مقدمہ درج کرا دیا گیا۔جب مقدمہ دائر ہو چکا تو پیش آمدہ حالات کو مرزا غلام احمد صاحب اس طرح بیان کرتے ہیں کہ ” جب نالش ہو چکی تو بعد میں معلوم ہوا کہ یہ مقدمہ نا قابل فتح ہے اور اس میں یہ مشکلات ہیں کہ جس زمین پر دیوار کھینچی گئی ہے اس کی نسبت کسی پہلے وقت کی مثل کی رو سے ثابت ہوتا ہے کہ مد عاعلیہ یعنی امام الدین قدیم سے اس کا قابض ہے۔اب اس زمین پر امام الدین نے دیوار کھینچ دی ہے کہ یہ میری زمین ہے۔غرض نالش کے بعد ایک پرانی مثل کے ملاحظہ سے یہ ایسا مقدۃ لا نخل ہمارے لئے پیش آ گیا تھا جس سے صریحاً معلوم ہوتا تھا کہ ہمارا دعوی خارج کیا جائے گا۔۔۔اس