مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام

by Other Authors

Page 198 of 439

مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 198

۱۹۸ ورغلاتے ، جھوٹی باتوں پر لگاتے رہے، اور شروع میں آخر تک ایک ایسے مقدے کو بڑھاتے رہے، جو صرف اُن کے اپنے ذہن کی پیداوار تھا ، اور ان ساری کوششوں کا مقصد یہ تھا کہ کسی طرح مرزا صاحب کو زک پہنچائی جائے یہاں تک کہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ گورداسپور کے مشاہدے کے مطابق ان تینوں کارندوں نے ڈاکٹر مارٹن کلارک کو بھی دھوکہ دیا۔VI - اوپر یہ لکھا جا چکا ہے کہ یہ مقدمہ بظاہر معمولی ہونے کے خاصی اہمیت کا حامل بن گیا اس کے ثبوت میں ہم ایک اور واقعہ پیش کرتے ہیں جو نا قابل یقین بھی اور عبرت انگیز بھی نظر آتا ہے۔یہ واقعہ مقدمے کی سماعت کے آخری دن ۱۳ اگست ۱۸۹۷ء کو پیش آیا۔اس کے متعلق ایم۔ڈبلیو۔ڈگلس ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ گورداسپور کے مسل خواں راجہ غلام حیدر خان جو مرزا صاحب کے مرید نہیں تھے بیان کرتے ہیں کہ: ” جب عدالت ( بٹالہ میں۔ناقل ) ختم ہوئی تو ڈپٹی کمشنر صاحب نے کہا کہ ہم فوراً گورداسپور جانا چاہتے ہیں تم ابھی جا کر ہمارے لئے ریل کے کمرے کا انتظام کرو۔چنانچہ میں مناسب انتظامات کرنے کے لئے ریلوے اسٹیشن گیا۔میں اسٹیشن سے نکل کر برآمدہ میں کھڑا تھا تو میں نے دیکھا کہ سر ڈگلس سٹرک پر ٹہل رہے ہیں اور کبھی ادھر جاتے ہیں اور کبھی اُدھر اُن کا چہرہ پریشان ہے۔میں اُن کے پاس گیا اور کہا: صاحب آپ باہر پھر رہے ہیں میں نے ویٹنگ روم میں کرسیاں بچھائی ہوئی ہیں آپ وہاں تشریف رکھیں۔وہ کہنے لگے : منشی صاحب آپ مجھے کچھ نہ کہیں میری طبیعت خراب ہے۔میں نے کہا : کچھ بتا ئیں تو