مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 93
۹۳ میں دیئے جانے والے دلائل کو اپنے کانوں سے سُن سکیں۔اس مباحثے کی پہلی نشست گیارہ مارچ ۱۸۸۶ء کی رات کو ہوئی ماسٹر صاحب نے اپنا مشہور اعتراض معجزہ شق القمر کے بارے میں پیش کیا۔جب مرزا صاحب نے اس کا جواب لکھا تو اس پر ماسٹر مرلی دھر صاحب نے جواب الجواب لکھا۔جب معاہدے کے مطابق جواب الجواب کے جواب کا وقت آیا اور مرزا صاحب اسے لکھنے لگے تو ماسٹر صاحب اُٹھ کر جانے کے لئے تیار ہوئے اور رات بڑی چلے جانے کا عذر پیش کیا۔مرزا صاحب نے گزارش کی کہ رات کا سب پر برابر اثر ہے اور نیز یہ کہ معاہدے کی خلاف ورزی مناسب نہیں۔اکثر حاضرین نے بھی ماسٹر صاحب کو سمجھایا کہ ابھی رات کچھ ایسی زیادہ نہیں ہوئی۔میاں شتر و گن صاحب پسر کلاں راجہ روورسین صاحب والئی ریاست کپورتھلہ جو مباحثہ میں موجود تھے نے کئی بار ماسٹر مرلی دھر صاحب سے التجا کی کہ آپ جواب الجواب لکھنے دیں ہم بخوشی بیٹھیں گے۔ہم لوگوں کو کوئی تکلیف نہیں بلکہ ہمیں جواب سننے کا شوق ہے۔ایسا ہی کئی دوسرے ہندو معززین نے بھی عرض کی مگر ماسٹر صاحب نے کچھ ایسی مصلحت سوچی کہ کسی کی بات کو نہ مانا اور اُٹھ کر چلے گئے۔دوسری نشست ۱۴ / مارچ ۱۸۸۶ء کو دن کے وقت شیخ مہر علی صاحب رئیس اعظم ہوشیار کے مکان پر ہوئی۔معاہدے کی رو سے اس دن مرزا غلام احمد صاحب کو آریہ سماج کے عقائد پر اپنے سوالات پیش کرنے تھے لیکن ماسٹر مرلی دھر صاحب نے گیارہ مارچ والی بحث میں پیش کئے گئے ایک حوالے پر بحث شروع کر دی اور اعلان کر دیا کہ اگر مرزا صاحب یہ حوالہ ستیارتھ پرکاش کتاب سے نکال کر دکھا دیں تو اسی سے بچے اور