مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 414
۴۱۴ کوئی ان احرار سے پوچھے۔بھلے مانسو! تم نے مسلمانوں کا کیا سنوارا ہے، کوئی اسلامی خدمت تم نے سرانجام دی ہے، کیا بھولے سے بھی تم نے تبلیغ اسلام کی؟ احرار یو! کان کھول کر سُن لو۔تم اور تمہارے لگے بندھے مرزا محمود کا مقابلہ قیامت تک نہیں کر سکتے۔مرزا محمود کے پاس قرآن ہے، قرآن کا علم ہے تمہارے پاس کیا خاک دھرا ہے۔تم میں سے ہے کوئی جو قرآن کے سادہ حروف بھی پڑھ سکے؟ تم نے کبھی خواب میں بھی قرآن نہیں پڑھا تم خود کچھ نہیں جانتے لوگوں کو کیا بتاؤ گے مرزا محمود کی مخالفت تمہارے فرشتے بھی نہیں کر سکتے۔میرزا محمود کے ساتھ ایسی جماعت ہے جو تن ، من ، دھن اس کے ایک اشارہ پر اُس کے پاؤں میں نچھاور کرنے کو تیار ہے۔تمہارے پاس کیا ہے گالیاں اور بدزبانی؟ تف ہے تمہاری غداری پر ! ۳۱ دلی تمنا نواب بہادر یار جنگ ۱۹۴۰ء میں قادیان تشریف لے گئے۔واپس آ کر اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وو ” میری دلی تمنا ہے کہ میں تمام دنیا کے مسلمانوں کو اس چھوٹی سی جماعت کی طرح منظم اور ایک مرکز کے تحت جو اصول اسلامی کے مطابق ہے حرکت کرتا ہوا دیکھوں۔‘‘ ۲ لے : مولانا ظفر علی خان - ایک خوفناک سازش - صفحات ۱۹۵-۱۹۶ نواب بہادر یار جنگ - الفضل ۱۳ / دسمبر ۱۹۶۳ء