مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 92
۹۲ کے درمیان مباحثے کی صورت نکل آئی۔مرزا صاحب ۲۲ جنوری سے ۱۷ / مارچ ۱۸۸۶ء تک ہندوستان کے ایک شہر ہوشیار پور میں بغرض چلہ کشی مقیم رہے اور ۴۰ روز تک آپ عوام الناس اور اعزہ واقربا سے علیحدہ رہ کر پورا وقت انہماک کے ساتھ عبادت الہی میں گذراتے رہے۔مارچ کے اوائل میں چلے کے اختتام پر ہوشیار پور کے ماسٹر مرلی دھر ڈرائنگ ماسٹر جو آریہ سماج کے ایک مقتدر رہنما تھے۔مرزا صاحب کے پاس تشریف لائے اور درخواست کی کہ وہ مرزا صاحب سے اسلامی تعلیمات پر چند سوالات کے جوابات چاہتے ہیں۔یہی ملاقات مرزا صاحب اور ماسٹر مرلی دھر صاحب کے درمیان مباحثے کا سبب بنی۔اس مباحثے کو مرزا صاحب نے بعد میں ستمبر ۱۸۸۶ء میں سرمہ چشم آریہ کے نام سے کتابی شکل میں شائع بھی کر دیا تا کہ عوام الناس بھی اس مباحثے کی روداد کو پڑھ سکیں۔مباحثے کے لئے مرزا صاحب اور ماسٹر صاحب کے درمیان باہمی رضا مندی سے یہ طے ہوا کہ ایک نشست میں ماسٹر مرلی دھر صاحب اسلام پر اپنے سوالات پیش کریں گے اور مرزا غلام احمد صاحب ان کے جوابات دیں گے اور دوسری نشست میں مرزا غلام احمد صاحب آریہ سماج کے مسلمہ عقائد پر سوالات کریں گے اور ماسٹر صاحب ان کا جواب دیں گے۔یہ بھی طے ہوا کہ بحث کا خاتمہ جواب الجواب کے جواب سے ہو گا۔مباحثے کی دونشتوں کے لئے گیارہ مارچ ۱۸۸۶ء کی شب اور ۱۴/ مارچ ۱۸۸۶ء کا دن قرار پایا۔ہندوؤں اور مسلمانوں کی طرف سے بہت سے معزز شہری جن میں وکیل، ڈاکٹر ، سرکاری افسران اور رؤسا بھی شامل تھے۔دور و نزدیک سے اپنے کام کا حرج کر کے مرزا صاحب کی فرودگاہ جہاں یہ مباحثہ ہونا قرار پایا تھا تشریف لائے تا کہ اسلام اور آریہ سماج کے حق