مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام

by Other Authors

Page 360 of 439

مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 360

تشہیر ہوئی اور پیرمہر علی شاہ آف گولڑہ کی علمی اور سماجی دیانت پر حرف آیا تو مولوی کرم دین صاحب ان خطوط کے اصلی ہونے سے صاف مکر گئے جن میں انہوں نے پیر صاحب کے علمی سرقے کا انکشاف کیا تھا۔اس کے ساتھ ہی مولوی صاحب نے جہلم سے چھپنے والے سراج الاخبار کی ۶ اکتوبر ۱۹۰۲ء کی اشاعت میں ایک مضمون لکھ کر یہ اعلان بھی کر دیا کہ الحکم قادیان ۱۷ ستمبر ۱۹۰۲ء میں چھپنے والے سب خطوط جعلی ہیں نیز یہ کہ مرزا غلام احمد صاحب کا تمام کاروبار محض مکر وفریب ہے اور آپ اپنے دعوے میں کذاب اور مفتری ہیں۔مولوی کرم دین صاحب نے جو دروغ گوئی اور الزام تراشی کا رویہ مرزا صاحب کے ساتھ اختیار کیا۔مرزا صاحب نے تین ماہ تک اسے صبر وتحمل سے برداشت کیا تا کہ مولوی صاحب از خود اپنے رویے پر نظر ثانی کر لیں اور حقائق کو تسلیم کر لیں لیکن جب مولوی صاحب نے اصلاح احوال کی کوئی ضرورت محسوس نہ کی تو مرزا صاحب کے کچھ ساتھیوں نے یکے بعد دیگرے مولوی صاحب پر تین استغاثے دائر کر دیئے تا کہ عدالت کے ذریعے داد رسی ہو سکے۔ان حالات میں مولوی کرم صاحب نے جواب میں پہلا مقدمہ مرزا صاحب کے خلاف دائر کر دیا۔اے مولوی کرم دین صاحب کا پہلا مقدمہ: جن حالات میں مولوی محمد حسن فیضی کی وفات ہوئی مرزا غلام احمد صاحب نے اس کا تذکرہ اپنی تصانیف نزول اسیح (۱۹۰۲ء ) اور پھر مواہب الرحمن (۱۹۰۳ء) میں کیا اور واضح کیا کہ کس طرح مولوی صاحب مرزا صاحب کے ساتھ روحانی ا : دوست محمد شاہد ۱۹۶۲ء- تاریخ احمدیت۔جلد سوئم صفحات ۲۷۱-۲۷۲