مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 359
۳۵۹ اس الزام کو اپنی کتاب نزول مسیح کے اندر انصاف اور دیانت کا خون قرار دیا اور مشاہیر عالم نے بھی پیر صاحب کے الزام کو قابل توجہ نہ سمجھا۔دوسری طرف قدرت کی یہ عجب ستم ظریفی دیکھئے کہ چاہ کن را چاہ در پیش۔مرزا صاحب کو مولوی محمد حسن فیضی کے دوست میاں شہاب الدین صاحب ساکن بھیں کا خط ملا جس میں انہوں نے مرزا صاحب کو مطلع کیا کہ پیر مہر علی شاہ آف گولڑہ کی تصنیف ”سیف چشتیائی دراصل مولوی محمد حسن فیضی کے مسودے کی من و عن نقل اور اس لئے مسروقہ مضمون پر مبنی ہے۔میاں صاحب نے اس سرقے پر افسوس کا ایک خط پیر صاحب کو براہ راست بھی لکھا۔اس طرح ممکنہ بدنامی کے پیش نظر پیر مہر علی شاہ آف گولڑہ نے مولوی محمد حسن فیضی کے والد کو خط لکھا کہ وہ میاں شہاب الدین صاحب کو مولوی محمد حسن فیضی کا مسودہ کتاب نہ دکھائیں۔اس کے ساتھ ہی پیر صاحب نے ایک خط موضع بھیں کے مولوی کرم دین صاحب کو لکھا کہ انہوں نے اپنی کتاب ” سیف چشتیائی“ میں مولوی محمد حسن فیضی کے صرف نوٹ استعمال کئے ہیں۔مولوی کرم دین صاحب اور میاں شہاب الدین صاحب نے پیر صاحب کے خطوط ، دوسری تفاصل اور مولوی محمد حسن فیضی کے نوٹس اور متعلقہ کتب سب مرزا غلام احمد صاحب کو بھجوا دیئے تا کہ ان کا پیر صاحب کی تحریروں سے مقابلہ کر کے پیر صاحب پر سرقہ کا الزام ثابت ہو سکے۔چنانچہ مولوی کرم دین صاحب، میاں شہاب الدین اور پیر مہر علی شاہ آف گولڑہ کے سارے خطوط اخبار الحکم قادیان کی ۷ ار ستمبر ۱۹۰۲ء کی اشاعت میں شائع کرا دیئے گئے تا کہ عوام کو اصل صورت سے آگا ہی ہو سکے نیز اس ساری تفصیل کو مرزا غلام احمد صاحب قادیانی نے اپنی تصنیف نزول مسیح (۱۹۰۲ء) میں بھی درج کر دیا۔جب اس پورے قصے کی اخبار میں