مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 8
مکان میں ہوں جو نہایت پاک اور صاف ہے اور اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر اور چرچا ہورہا ہے۔میں نے لوگوں سے دریافت کیا کہ حضور کہاں تشریف فرما ہیں؟۔۔۔۔جب میں حضور کی خدمت میں پہنچا تو حضور بہت خوش ہوئے اور آپ نے مجھے بہتر طور پر میرے سلام کا جواب دیا۔آپ کا حسن و جمال اور ملاحت اور آپ کی پُر شفقت اور پُر محبت نگاہ مجھے اب تک یاد ہے اور وہ مجھے کبھی بھول نہیں سکتی۔۔۔آپ نے مجھے فرمایا: اے احمد تمہارے دائیں ہاتھ میں کیا چیز ہے؟ میں نے اپنے دائیں ہاتھ کی طرف دیکھا تو معلوم ہوا کہ میرے ہاتھ میں ایک کتاب ہے۔اور وہ مجھے اپنی ہی ایک تصنیف معلوم ہوئی میں نے عرض کیا : حضور یہ میری تصنیف ہے۔“ غرض آنحضرت نے وہ کتاب مجھ سے لے لی۔۔۔تو آنحضرت کا ہاتھ مبارک لگتے ہی ایک نہایت خوشرنگ میوہ بن گئی۔۔۔آنحضرت نے جب اس میوہ کو تقسیم کرنے کے لئے قاش قاش کرنا چاہا تو اس قد راس میں سے شہر نکلا کہ آنجناب کا ہاتھ مبارک مرفق تک شہد سے بھر گیا۔تب ایک مردہ جو دروازہ سے باہر پڑا تھا آنحضرت کے معجزہ سے زندہ ہو کر اس عاجز کے پیچھے آ کھڑا ہوا۔۔۔ایک قاش آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو اس غرض سے دی کہ تا اس شخص کو دوں جو نئے سرے سے زندہ ہوا اور باقی تمام قاشیں میرے دامن میں ڈال دیں ! ا : مرزا غلام احمد ۱۸۹۲ء- براہین احمدیہ حصہ سوئم صفحہ ۲۴۹