مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 284
۲۸۴ ہیں کہ اس آیت کے قطعی طور پر یہی معنی ہیں کہ کوئی اہل کتاب میں سے ایسا نہیں کہ جو عیسی پر اُس کی موت سے پہلے ایمان نہیں لائے گا اور چونکہ اب تک تمام اہل کتاب کیا عیسائی اور کیا یہودی حضرت عیسی پر سچا اور حقیقی ایمان نہیں لائے بلکہ کوئی اُن کو خدا قرار دیتا ہے اور کوئی اُن کی نبوت کا منکر ہے۔اس لئے ضروری ہے کہ حسب منشاء اس آیت کے حضرت عیسی کو اُس زمانہ تک زندہ تسلیم کر لیا جائے جب تک کہ سب اہل کتاب اس پر ایمان لے آویں۔مولوی صاحب اس بات پر حد سے زیادہ ضد کر رہے ہیں کہ ضرور یہ آیت موصوفہ بالا حضرت مسیح کی جسمانی زندگی پر قطعی طور پر دلالت کرتی ہے اور یہی صحیح معنے اس کے ہیں کسی دوسرے معنے کا احتمال اس میں ہر گز نہیں اور اس بات کو قبول کرتے ہیں کہ گویا بعض صحابہ اور تابعین اور مفسرین نے اور بھی کتنے معنے اس آیت کے کئے ہیں مگر وہ معنے صحیح نہیں ہیں۔اور فرماتے ہیں کہ جو حضرت ابن۔۔۔۔۔۔عباس وغیرہ صحابہ نے اس کے مخالف معنے کئے ہیں۔یہ معنے ان کی نحو۔۔۔۔۔کے اجماعی قاعدہ کے مخالف ہیں۔۔۔سمو مولوی صاحب کی اس تقریر کا حاصل کلام یہ معلوم ہوتا ہے کہ چونکہ ابن عباس ، عکرمہ اور ابی ابن کعب وغیرہ نحو نہیں پڑھے ہوئے تھے اس لئے وہ ایسی صریح غلطیوں میں ڈوب گئے جو انہیں وہ قاعدہ یاد نہ رہا جس پر تمام نحویوں کا اجماع اور اتفاق ہو چکا تھا۔۔۔ابن عباس اور عکرمہ پر یہ الزام دینا کہ وہ نحوی قاعدہ سے بے خبر تھے میری سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا مولوی صاحب یا کسی اور کا حق ہے