مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام

by Other Authors

Page 283 of 439

مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 283

۲۸۳ پہلے ہی دن سے رو برو بیٹھ کر لکھنے سے اپنے بجز کا اعتراف کر لیا تھا۔اگر گھر بیٹھ کر ہی جواب لکھنا ہے تو پھر مباحثہ بذریعہ مراسلت قادیان اور دہلی میں بیٹھ کر بھی ہوسکتا ہے کیونکہ آمنے سامنے بیٹھ کر لکھنے میں جو حکمتیں پوشیدہ ہیں وہ گھر سے لکھ کر لانے میں ظاہر نہیں ہوسکتیں۔دوسری وجہ یہ تھی کہ مولوی سید محمد بشیر صاحب ابھی تک اس بات کے اقرار پر تیار نہ تھے کہ حیات مسیح کے ثبوت مہیا کرنا ان کی ذمہ داری ہے اس لئے مرزا صاحب کا کہنا تھا کہ اگر مباحثہ کا اصل موضوع ہی اختلاف کی زد میں آجائے تو پھر بحث کس بات پر جاری رکھی جائے۔اے مرزا غلام احمد صاحب نے مولوی سید محمد بشیر صاحب کے آخری مضمون پر مندرجہ ذیل تبصرہ کیا حضرت مولوی صاحب ( مولوی سید بشیر صاحب - ناقل) نے اپنے اس دعویٰ کی تائید میں کہ حضرت مسیح جسم خاکی کے ساتھ زندہ ہیں پانچ آیتیں اپنی طرف سے پیش کی تھیں۔پھر چار آیتوں کو تو خود اس اقرار کے ساتھ چھوڑ دیا کہ ان سے حضرت مسیح کا جسم خاکی کے ساتھ زندہ ہو نا قطعی طور پر ثابت نہیں ہوتا۔۔۔۔اور تمام مدارا اپنے اس دعوے کا اس آیت پر رکھا جو سورہ النساء میں موجود ہے اور وہ یہ ہے وانُ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ الَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ o مولوی صاحب اس آیت کو حضرت عیسی کی جسمانی زندگی پر قطعی دلالت قرار دیتے ہیں اور فرماتے ل : دوست محمد شاہد ۱۹۵۹ء تاریخ احمدیت جلد دوم صفحات ۲۴۷ - ۲۴۸